مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی تیل منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس صورتحال کا براہِ راست اثر ان لاکھوں گھرانوں پر پڑنے کا امکان ہے جو سردیوں میں اپنے گھروں کو گرم رکھنے کے لیے ہیٹنگ آئلپر انحصار کرتے ہیں۔ جیسے جیسے درجہ حرارت گر رہا ہے، توانائی کی قیمتوں میں متوقع اضافہ عام آدمی کے بجٹ کے لیے ایک نئی مصیبت بن کر سامنے آ رہا ہے۔
عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں ہیں۔ اگر ایران کی آئل ریفائنریز یا برآمدی مراکز متاثر ہوتے ہیں، تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں فوری کمی آئے گی، جس کا اثر ریفائنڈ شدہ مصنوعات، بشمول ہیٹنگ آئل، کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نکلے گا۔
امریکہ کے شمال مشرقی حصوں اور یورپ کے کئی علاقوں میں ہیٹنگ آئل سردیوں کے دوران گھروں کو گرم رکھنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ نیچرل گیس کے برعکس، جس کے معاہدے طویل مدت کے لیے ہوتے ہیں، ہیٹنگ آئل کی قیمت عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ فوری تبدیل ہوتی ہے۔ خام تیل کی قیمت میں ایک ڈالر کا اضافہ بھی چند دنوں میں سپلائی ٹرکوں کے ذریعے صارفین تک پہنچنے والے بلوں میں نمایاں فرق ڈال دیتا ہے۔
توانائی کے امور کے ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "مارکیٹ اس وقت ایسے رسک پریمیم کو شامل کر رہی ہے جو دو ہفتے پہلے موجود نہیں تھا۔ اگر خلیج فارس میں کوئی بڑی تنصیب متاثر ہوتی ہے، تو یہ صرف قیمتوں میں معمولی اضافے کا مسئلہ نہیں رہے گا، بلکہ ایک ایسا لاجسٹک بحران ہوگا جس کے سامنے موجودہ ذخائر بھی بے معنی ہو جائیں گے۔”
اس بحران کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ اگر جنگی صورتحال کی وجہ سے اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوئی یا جہاز رانی متاثر ہوئی، تو انشورنس کے اخراجات اور مال برداری کا کرایہ آسمان سے باتیں کرے گا۔ یہ اضافی اخراجات بالآخر اس صارف کی جیب سے نکلیں گے جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔
اگرچہ حکومتیں اس بات کا دعویٰ کرتی ہیں کہ اسٹریٹجک ریزروز کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ریفائنریز پہلے ہی کم مارجن پر کام کر رہی ہیں۔ جیسے ہی خام مال مہنگا ہوتا ہے، ریفائنریز اپنے منافع کو برقرار رکھنے کے لیے ہول سیل قیمتوں میں فوری اضافہ کر دیتی ہیں۔
ان خاندانوں کے لیے جو پہلے ہی محدود بجٹ میں گزارا کر رہے ہیں، ہیٹنگ آئل کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد اضافہ ایک سنگین مالی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تہران اور تل ابیب کے درمیان جاری یہ کشیدگی اب صرف ایک سفارتی یا عسکری معاملہ نہیں رہی، بلکہ اس کا اثر ان لاکھوں لوگوں کی زندگیوں پر پڑ رہا ہے جن کے لیے سردیوں میں گھر کی گرمائش اب مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے ہوئے حالات کی قیدی بن چکی ہے۔
