کراچی: سندھ اسمبلی کے باہر منگل کے روز ایک غیر معمولی منظر دیکھنے میں آیا جب پاکستان تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گدھا گاڑی پر سوار ہو کر پہنچ گئے۔
اسمبلی کے گیٹ تک پہنچنے والے ان قانون سازوں کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے جن پر حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ ارکان کا کہنا تھا کہ ایندھن کی قیمتیں اس سطح پر پہنچ چکی ہیں کہ اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں، اور گدھا گاڑی ہی واحد سواری بچی ہے۔
گاڑی سے اترتے ہوئے ایک رکن نے تلخ لہجے میں کہا، "اگر حکومت اسی طرح عوام کا معاشی قتل کرتی رہی تو پھر یہی سواری ہمارا مقدر بنے گی۔”
اس احتجاج نے وہاں موجود سیکیورٹی اہلکاروں اور راہ گیروں کی توجہ حاصل کر لی۔ ٹریفک کا بہاؤ متاثر ہوا، لیکن پی ٹی آئی ارکان کا مقصد عوامی غصے کو ایوان کے دروازے تک پہنچانا تھا۔ سیاسی مخالفین نے اس اقدام کو محض ایک "ڈرامہ” قرار دیا اور یاد دلایا کہ ماضی میں پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں بھی مہنگائی کا گراف اوپر گیا تھا۔
باوجود اس تنقید کے، بڑھتی ہوئی افراطِ زر سے پسے ہوئے عام شہری کے لیے یہ منظر ایک علامتی احتجاج تھا۔ پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہمیشہ سے سیاسی دباؤ کا باعث بنتا ہے اور ہر اضافے کے بعد حکومتی ساکھ مزید کمزور پڑ جاتی ہے۔
ارکانِ اسمبلی گدھا گاڑی باہر چھوڑ کر اجلاس میں شرکت کے لیے اندر چلے گئے۔ یہ احتجاج حکومتی پالیسیوں میں فوری تبدیلی لانے کی صلاحیت تو نہیں رکھتا، مگر اپوزیشن نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ایندھن کے بحران کو عوامی سطح پر زندہ رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔
