سیاںجور — انڈونیشیا کے مغربی جاوا کے علاقے میں منگل کے روز آنے والے 5.6 شدت کے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
زلزلے کا مرکز سیاںجور کے قریب 10 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ کم گہرائی کے باعث جھٹکے انتہائی شدید محسوس کیے گئے جس سے کچے اور کمزور ڈھانچے والے مکانات ریت کے گھروندوں کی طرح زمین بوس ہوگئے۔ دوپہر کے وقت آنے والے اس زلزلے نے اسکولوں اور رہائشی علاقوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔
مقامی حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 160 سے تجاوز کر چکی ہے اور خدشہ ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھے گی۔ ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے، جس کے باعث زخمیوں کو سڑکوں اور ہسپتال کے باہر کھلے میدانوں میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
ایک مقامی ڈیزاسٹر مینجمنٹ افسر نے صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا، "ہسپتالوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں بچی۔ ہمارے پاس بستر ختم ہو چکے ہیں اور مسلسل آفٹر شاکس کی وجہ سے لوگ خوفزدہ ہیں۔”
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 13 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ متاثرین اب عارضی خیموں یا کھلے میدانوں میں رات گزار رہے ہیں کیونکہ ان کے گھر مکمل تباہ ہو چکے ہیں یا ان میں رہنا اب غیر محفوظ ہے۔
امدادی ٹیموں کو پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ اور گرنے والے درختوں نے پہاڑی علاقوں کو جانے والے راستے مسدود کر دیے ہیں۔ بھاری مشینری دور دراز دیہات تک نہیں پہنچ پا رہی، جس کی وجہ سے امدادی کارکن ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے پر مجبور ہیں۔
سیاںجور کا علاقہ اپنی پہاڑی ساخت اور پرانی تعمیرات کے لیے جانا جاتا ہے۔ زلزلہ مخالف انجینئرنگ کا فقدان اس تباہی کی بڑی وجہ بنا۔ ماہرین کے مطابق اگر مکانات کی تعمیر میں بنیادی حفاظتی اصولوں کا خیال رکھا جاتا تو جانی نقصان کی شرح بہت کم ہو سکتی تھی۔
حکومت نے فوج کو ریسکیو آپریشن میں مدد کے لیے طلب کر لیا ہے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملبے تلے دبے افراد کے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ موسم کی خرابی اور متوقع بارشیں امدادی کاموں میں مزید رکاوٹ کا باعث بن سکتی ہیں۔
فی الحال تمام تر توجہ زندہ بچ جانے والوں کو خوراک اور طبی سہولیات کی فراہمی پر مرکوز ہے۔ ہزاروں افراد کے لیے آج کی رات کھلے آسمان تلے گزرے گی، جبکہ آنے والے دن ان کے لیے ایک طویل اور مشکل بحالی کے عمل کا آغاز ہیں۔
