ڈھاکہ نے نئی دہلی کے ساتھ اعلیٰ سطحی سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے ایک سخت شرط رکھ دی ہے: سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حوالگی۔
نگراں حکومت کے مشیر برائے امور خارجہ توحید حسین نے واضح کیا ہے کہ اب تعلقات معمول پر لانے کا دارومدار صرف اس بات پر ہے کہ عوامی لیگ کی سابق سربراہ کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اگست میں حکومت کے خاتمے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تلخی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ مطالبہ اچانک نہیں آیا۔ حسینہ واجد اس وقت درجنوں مقدمات کا سامنا کر رہی ہیں، جن میں قتل اور انسانیت کے خلاف جرائم کے سنگین الزامات شامل ہیں۔ یہ الزامات رواں برس موسم گرما میں طلبہ کے مظاہروں کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات سے متعلق ہیں۔ ڈھاکہ میں انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کی جانب سے گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کے بعد، نگراں حکومت اب حوالگی کے قانونی عمل کو تیز کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
وزارت خارجہ کے ایک قریبی ذرائع نے بتایا کہ "یہ محض سیاسی بیان بازی نہیں، بلکہ ایک قانونی تقاضا ہے۔ جب تک وہ شخص جس پر خون ریزی کا الزام ہے سرحد پار محفوظ ہے، تب تک معمول کے سفارتی تعلقات کی بات کرنا ناممکن ہے۔”
نئی دہلی کے لیے یہ صورتحال ایک پیچیدہ سفارتی چیلنج بن چکی ہے۔ بھارت نے طویل عرصے تک حسینہ واجد کو ایک کلیدی اتحادی کے طور پر دیکھا جس نے مشرقی سرحدوں کو محفوظ رکھا۔ اب مودی حکومت کو ایک مشکل انتخاب کا سامنا ہے: کیا وہ ایک ایسی رہنما کی حمایت جاری رکھے جو بنگلہ دیش میں شدید عوامی غصے کا مرکز بن چکی ہیں، یا پھر اپنے اہم پڑوسی ملک کے ساتھ طویل مدتی تعلقات کو ترجیح دے؟
اس سفارتی تعطل کے اثرات پہلے ہی نمایاں ہیں۔ تجارتی مذاکرات سست پڑ چکے ہیں اور ڈھاکہ کی جانب سے بیانات میں غیر معمولی سختی آ چکی ہے۔ اگرچہ بھارتی حکام نے اب تک حسینہ واجد کی قانونی حیثیت پر کھل کر بات کرنے سے گریز کیا ہے، لیکن ڈھاکہ کی سڑکوں سے اٹھنے والا دباؤ اب خاموشی کی پالیسی کو غیر پائیدار بنا رہا ہے۔
نگراں حکومت کا یہ الٹی میٹم وزیر اعظم کے دورہِ بھارت کے تمام امکانات کو سرد خانے میں ڈال چکا ہے۔ یہ خلیج مستقل ہوگی یا وقتی، اس کا انحصار مکمل طور پر اس بات پر ہے کہ نئی دہلی حوالگی کی درخواست پر کیا ردعمل دیتا ہے۔
ڈھاکہ میں جاری قانونی کارروائیوں نے دونوں دارالحکومتوں کے درمیان فاصلے مزید بڑھا دیے ہیں۔ اس صورتحال نے اس خاموش سفارت کاری کا باب بند کر دیا ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد تھی۔
