یوکرین کے مختلف شہروں پر منگل کی صبح روسی فضائی حملوں کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ کروز میزائلوں اور ڈرونز کا ایک مربوط سلسلہ تھا جس نے کم از کم چار بڑے شہروں میں رہائشی علاقوں کو براہِ راست نشانہ بنایا۔
دارالحکومت کیف میں تین گھنٹے تک سائرن گونجتے رہے۔ مقامی فضائی دفاعی نظام نے کئی میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنایا، لیکن ایک تباہ شدہ میزائل کا ملبہ اوبولون ڈسٹرکٹ کی ایک کثیر المنزلہ عمارت پر جا گرا۔ امدادی ٹیمیں صبح سے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
ادھر مشرقی شہر خارکیف میں ایک مارکیٹ پر میزائل گرنے سے دو افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ حملہ اس وقت ہوا جب مارکیٹ میں خریداروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ علاقائی گورنر اولیہ سینیہوبوف نے تصدیق کی کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے، تاہم "ڈبل ٹیپ” حملوں کے خدشے نے امدادی کاموں کی رفتار کو سست کر دیا ہے — یعنی روسی فوج اکثر امدادی ٹیموں کے پہنچنے کے بعد اسی مقام پر دوبارہ حملہ کرتی ہے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مغربی دارالحکومتوں میں یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دینے پر بحث جاری ہے۔ یوکرینی قیادت کا موقف ہے کہ جب تک انہیں روسی سرزمین کے اندر موجود لانچ سائٹس کو نشانہ بنانے کی چھوٹ نہیں ملے گی، ان کی شہری آبادی مسلسل خطرے میں رہے گی۔
فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق، حملوں کی نوعیت بتاتی ہے کہ روس نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے۔ اب صرف توانائی کے مراکز کے بجائے گنجان آباد رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد سردیوں کی آمد سے قبل یوکرینی عوام کے حوصلے پست کرنا ہے۔
کریملن کی جانب سے اب تک ان حملوں پر کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، اور روس کا روایتی موقف یہی ہے کہ وہ صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے۔ تاہم زمین پر موجود تباہ حال عمارتیں، جلتی ہوئی گاڑیاں اور سڑکوں پر بکھری انسانی لاشیں اس دعوے کی نفی کر رہی ہیں۔
کیف میں سورج ڈھل رہا ہے، لیکن تباہی کا تخمینہ لگانا ابھی باقی ہے۔ جن خاندانوں نے اپنے پیارے کھوئے ہیں، ان کے لیے یہ صرف ایک فضائی حملہ نہیں بلکہ بقا کی روزانہ کی جنگ ہے۔ بجلی کے گرڈز بار بار بند ہو رہے ہیں اور ایک اور سرد رات ان کے سامنے ہے۔
