بیلجیئم کے مشرقی حصے میں واقع قدرتی ذخیرہ گاہ ‘ہائی فینس’ اس وقت ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی جنگلاتی آگ کی لپیٹ میں ہے۔ منگل سے اب تک 1500 ہیکٹر سے زائد رقبہ جل کر راکھ ہو چکا ہے اور آگ کے شعلے تیزی سے جرمن سرحد کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔
خشک موسم اور تیز ہواؤں نے اس علاقے کو، جو اپنی پیٹ لینڈ کے لیے مشہور ہے، بارود کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ بیلجیئم اور جرمنی کے فائر فائٹرز مشترکہ طور پر آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن دشوار گزار راستے ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ بھاری گاڑیاں وہاں نہیں پہنچ سکتیں، جس کی وجہ سے امدادی ٹیمیں صرف ہیلی کاپٹرز کے ذریعے پانی کے چھڑکاؤ اور ہاتھوں سے آگ کو روکنے والی رکاوٹیں بنانے پر مجبور ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق یہ صرف درختوں کا نقصان نہیں، بلکہ یہ زمین کے نیچے صدیوں سے جمع کاربن کا ذخیرہ جل رہا ہے۔ پیٹ لینڈ میں لگی آگ کو بجھانا ناممکن حد تک مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ زمین کے اندر کئی ہفتوں تک سلگتی رہتی ہے۔
ایمرجنسی کوآرڈینیٹر مارک وینڈوین کہتے ہیں، "ہم ایک ایسے عفریت سے لڑ رہے ہیں جو صرف سطح پر نہیں جل رہا۔ یہ ہمارے پیروں کے نیچے زمین کو کھا رہا ہے، اور ہوائیں ہماری کوششوں کو ناکام بنا رہی ہیں۔”
انتظامیہ نے سرحد کے قریب واقع تین دیہاتوں سے 400 کے قریب رہائشیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ اگرچہ ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، لیکن دھویں کے بادلوں نے جرمنی کے شہر آخن تک فضا کو آلودہ کر دیا ہے، جس کے بعد حکام نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی تنبیہ جاری کی ہے۔
اس بحران نے بیلجیئم کی حکومت کی ماحولیاتی تیاریوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کے شدید خطرات کے پیشگی انتباہ کے باوجود، دلدلی علاقے میں آگ بجھانے کے لیے جدید آلات کی کمی واضح تھی۔
جمعرات کی سہ پہر تک، آگ جرمن میونسپلٹی مونشاؤ سے محض دو کلومیٹر کے فاصلے پر تھی۔ جرمن حکام نے امدادی ٹیموں کی نقل و حرکت کے لیے اہم شاہراہیں بند کر دی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے 72 گھنٹوں تک بارش کا کوئی امکان نہیں، جس کی وجہ سے آگ کے سرحد پار کرنے کا خطرہ بدستور سر پر منڈلا رہا ہے۔ ہائی فینس کا یہ قدرتی حسن شاید بچ جائے، مگر یہ آگ اس خطے کے جنگلات پر دہائیوں تک گہرے نقوش چھوڑ جائے گی۔
