کراچی: پاکستان رینجرز سندھ اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کراچی میں مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران تحریک طالبان پاکستان سے مبینہ تعلق رکھنے والے ایک شخص کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے اسلحہ اور بارودی مواد برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سندھ رینجرز کے ترجمان کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت شہزاد عرف ڈنگر کے نام سے ہوئی ہے، جسے جمشید ٹاؤن کے علاقے جیکب لائنز میں کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق شہزاد مبینہ طور پر ٹی ٹی پی کے منصور گروپ سے وابستہ تھا اور 2025 میں اس تنظیم میں شامل ہوا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو گروپ کے سربراہ منصور نے کراچی میں تنظیم کے لیے چندہ جمع کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔
رینجرز کے مطابق شہزاد نے مبینہ طور پر منگھوپیر کے مختلف افراد سے رابطہ کرکے انہیں ماہانہ بنیادوں پر رقم فراہم کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ جمع کی گئی رقم منصور کے ساتھی دین محمد کی جانب سے فراہم کیے گئے ایزی پیسہ اکاؤنٹس کے ذریعے وزیرستان منتقل کی جاتی تھی۔
ترجمان کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش بتایا کہ یہ رقم بعد میں منصور تک پہنچائی جاتی اور مبینہ طور پر دہشت گردی کی مختلف سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
سندھ رینجرز کے مطابق شہزاد متعدد مرتبہ وزیرستان بھی گیا اور منصور سے خفیہ ملاقاتیں کیں۔ جون 2026 میں اس نے مبینہ طور پر افغانستان کی سرحد سے متصل علاقے برمل میں منصور سے ملاقات کی، جہاں اسے کراچی میں اپنے نیٹ ورک کو مزید مضبوط کرنے اور دہشت گردی و بھتہ خوری سے متعلق سرگرمیوں میں کردار ادا کرنے کی ہدایت دی گئی۔
رینجرز کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ایک نامعلوم ساتھی کے ذریعے شہزاد کو اسلحہ اور بارودی مواد فراہم کیا گیا۔ حکام کے مطابق اسلحہ اور بارود ملنے کے بعد شہزاد اور اس کے ساتھی کراچی میں حساس مقامات کو نشانہ بنانے کی مبینہ منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
ترجمان نے بتایا کہ ملزم کے دیگر مبینہ ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
