وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 1 روپے 86 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق پیر کی رات بارہ بجے سے ہو چکا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 32 پیسے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے۔
یہ مسلسل دوسری بار ہے کہ حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں ریلیف دیا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نرمی کے باعث پاکستان کے درآمدی بل پر دباؤ میں کچھ کمی آئی ہے، جس کا فائدہ براہِ راست صارفین تک پہنچایا گیا ہے۔
عام شہری کے لیے یہ کمی بظاہر معمولی معلوم ہوتی ہے، لیکن مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام کے لیے قیمتوں کا گراف نیچے آنا ایک نفسیاتی سکون کا باعث ہے۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ کیا یہ ریلیف اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے کافی ہے؟ ماہرینِ معاشیات کا ماننا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی نہ ہونے تک عام آدمی کی جیب پر بوجھ برقرار رہے گا۔
حکومت کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج آئی ایم ایف کی شرائط اور ملکی معیشت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔ پیٹرولیم لیوی کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی حکومتی بجٹ کا اہم حصہ ہے، اس لیے قیمتوں میں بڑی کمی کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔
ماہرینِ توانائی کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اگر مزید خراب نہ ہوئی تو عالمی منڈی میں قیمتیں مستحکم رہ سکتی ہیں۔ فی الحال، پٹرول پمپوں پر نئے ریٹ آویزاں کر دیے گئے ہیں اور عوام اگلے پندرہ دن تک اس معمولی کمی کا اثر محسوس کر سکیں گے۔
