وزارتِ اقتصادی امور نے سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت دیامر بھاشا ڈیم کا منصوبہ ختم کرنے جا رہی ہے۔ وزارت کے ترجمان نے بدھ کو جاری بیان میں ان قیاس آرائیوں کو "بے بنیاد اور گمراہ کن” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ڈیم کی تعمیر حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
یہ افواہیں حالیہ دنوں میں معاشی مشکلات اور سرکاری ترقیاتی منصوبوں میں ممکنہ کٹوتیوں کی بازگشت کے بعد شروع ہوئیں۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ ملک کے وسیع تر مالیاتی بحران اور بجٹ خسارے کے پیشِ نظر حکومت اس اربوں ڈالر کے منصوبے کو ترک کر سکتی ہے۔
وزارت کے ایک عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "منصوبے کی منسوخی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، کام حسبِ منشاء جاری ہے۔ مالیاتی وعدے اپنی جگہ موجود ہیں اور سائٹ پر تعمیراتی عمل میں کوئی تعطل نہیں آیا۔”
دریائے سندھ پر تعمیر ہونے والا دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کی آبی اور توانائی کی ضروریات کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ 4,500 میگاواٹ بجلی کی پیداوار اور 8 ملین ایکڑ فٹ سے زائد پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والا یہ منصوبہ ملکی معیشت کے لیے طویل مدتی اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔
منصوبے کو ماضی میں بھی زمین کے حصول کے تنازعات اور ماحولیاتی تحفظات سمیت کئی رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کی تکمیل کی ڈیڈ لائن کئی بار آگے بڑھائی جا چکی ہے۔ موجودہ شیڈول کے مطابق ڈیم 2028 تک مکمل ہونا ہے، تاہم ماہرینِ معاشیات فنڈز کی بروقت فراہمی کو اس ہدف کے حصول کے لیے اہم ترین چیلنج قرار دیتے ہیں۔
حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کو دیگر ترقیاتی منصوبوں کی طرح مالیاتی تنگی کا سامنا نہیں ہے۔ تاہم، اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکومت ملکی معاشی دباؤ کے باوجود اس میگا پروجیکٹ کی رفتار کو برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔
