بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کے آئندہ انتخابات کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سامنے ایک بلند ہدف رکھ دیا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اب پارٹی خطے میں ثانوی کردار پر اکتفا کرنے کو تیار نہیں۔
پارٹی کی حالیہ حکمت عملی کے اجلاس کے دوران چیئرمین پی پی پی نے اپنے ارادے واضح کر دیے: پارٹی کو صرف ووٹ بینک بڑھانے کے بجائے اتنی نشستیں حاصل کرنی ہیں کہ حکومت سازی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے مقامی قیادت کو دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ اس بار کامیابی کا واحد معیار ‘بہتر نتائج’ ہیں۔
آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پی پی پی کی تاریخ ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، جہاں اکثر یہ جماعت مظفر آباد کے بڑے سیاسی کھلاڑیوں کے سائے میں رہی ہے۔ حکومت سازی کے مینڈیٹ پر زور دے کر بھٹو زرداری پارٹی کے بیانیے کو ایک علاقائی اپوزیشن گروپ سے بدل کر ایک قابلِ عمل حکمران قوت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ قیادت کی توجہ اب ‘الیکٹیبلز’ یعنی ایسے مقامی بااثر امیدواروں پر ہے جو جیت کی ضمانت دے سکیں۔ یہ حکمت عملی ان روایتی وفاداروں پر انحصار کم کرنے کی ایک براہِ راست کوشش ہے، جو اپنی تمام تر وابستگی کے باوجود مشکل حلقوں میں فتح حاصل کرنے کی تنظیمی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔
تاہم مظفر آباد میں اقتدار کی راہ ہموار نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی پہلے ہی اپنی پوزیشنیں مضبوط کر رہی ہیں، جہاں مقامی اتحاد روز بدل رہے ہیں۔ پی پی پی کے لیے چیلنج صرف ووٹر ٹرن آؤٹ بڑھانا نہیں، بلکہ عوام کو یہ یقین دلانا بھی ہے کہ سندھ میں ان کا طرزِ حکمرانی کشمیر کے پیچیدہ سیاسی اور جغرافیائی حالات میں بھی کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔
بھٹو زرداری کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس شکوک و شبہات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انہوں نے اپنے رفقاء کو امیدواروں کی فہرستیں جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے، تاکہ اندرونی اختلافات سے بچا جا سکے جو گزشتہ انتخابات میں پارٹی کی شکست کا باعث بنے تھے۔
حکومت سازی کا یہ عزم ایک حقیقت پسندانہ ہدف ہے یا محض کارکنوں کا حوصلہ بڑھانے کی حکمت عملی، یہ وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال پارٹی کے لیے پیغام بالکل واضح ہے: کامیابی حاصل کریں، یا پھر ناکامی کی ذمہ داری قبول کریں۔
