لندن:
شارک مچھلیوں کے تحفظ اور ان کی تیزی سے کم ہوتی آبادی پر تحقیق کے لیے سائنسدانوں کو 10 لاکھ برطانوی پاؤنڈ کی گرانٹ فراہم کی گئی ہے۔ اس فنڈنگ کا مقصد شارک کی مختلف اقسام کے تحفظ، ان کے مسکن کی نگرانی اور سمندری ماحولیاتی نظام میں ان کے کردار پر مزید جامع تحقیق کو فروغ دینا ہے۔
ماہرین کے مطابق شارک سمندری ماحول کا ایک اہم حصہ ہیں اور سمندری غذائی زنجیر کے توازن کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم غیر قانونی شکار، حد سے زیادہ ماہی گیری، سمندری آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور رہائشی علاقوں کی تباہی کے باعث دنیا بھر میں کئی اقسام کی شارک شدید خطرات سے دوچار ہیں۔
اس نئی گرانٹ کے ذریعے سائنسدان جدید ٹریکنگ ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ ٹیگنگ اور جینیاتی تحقیق کا استعمال کرتے ہوئے مختلف سمندری علاقوں میں شارک کی نقل و حرکت، افزائش نسل اور آبادی میں ہونے والی تبدیلیوں کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج مستقبل میں تحفظ کی بہتر حکمت عملی بنانے میں مدد فراہم کریں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شارک کی تعداد میں مسلسل کمی صرف ایک جانور کے لیے خطرہ نہیں بلکہ پورے سمندری ماحولیاتی نظام کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اگر سمندر کے بڑے شکاری جانور کم ہو جائیں تو غذائی زنجیر کا توازن متاثر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں دیگر سمندری حیات اور ماہی گیری کی صنعت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی منصوبے میں مختلف یونیورسٹیوں، سمندری تحقیقی اداروں اور تحفظِ ماحول کی تنظیموں کے درمیان تعاون بھی شامل ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت سائنسدان نہ صرف نئی سائنسی معلومات جمع کریں گے بلکہ عوام میں شارک کے بارے میں پائے جانے والے غلط تصورات کو دور کرنے اور ان کے تحفظ کی اہمیت سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے بھی مہم چلائیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مؤثر سائنسی تحقیق، بین الاقوامی تعاون اور مضبوط حفاظتی پالیسیوں کے ذریعے شارک کی خطرے سے دوچار اقسام کو محفوظ بنانے اور سمندری حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے میں اہم پیش رفت ممکن ہے۔
