اسلام آباد: کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند اس ہفتے پاکستان کے سرکاری دورے پر پہنچیں گی۔ تقریباً 20 سال بعد کسی کینیڈین وزیرِ خارجہ کا یہ پہلا دورۂ پاکستان ہوگا، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کینیڈا کی حکومت کے مطابق انیتا آنند اپنے دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقات کریں گی۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی سلامتی، سفارتی تعاون اور مختلف شعبوں میں شراکت داری کو مزید فروغ دینے پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔
کینیڈا کا کہنا ہے کہ یہ دورہ اس کی انڈو پیسیفک حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت خطے کے اہم ممالک کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان کو جنوبی ایشیا میں ایک اہم شراکت دار تصور کیا جاتا ہے، اسی لیے دونوں ممالک تجارت، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے فروغ پر بھی تبادلۂ خیال کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر مذاکرات مثبت رہے تو مستقبل میں تجارت، سرمایہ کاری، تعلیمی تعاون اور سفارتی روابط میں مزید وسعت آنے کا امکان ہے۔
پاکستان کے دورے کے بعد کینیڈا کی وزیرِ خارجہ فلپائن روانہ ہوں گی، جہاں وہ آسیان (ASEAN) سے متعلق اہم سفارتی اجلاسوں میں شرکت کریں گی۔
یہ دورہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط کی بحالی اور باہمی اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
