کالمتھوٹ — بیلجیئم کے مشہور نیچر ریزرو ‘کالمتھوٹسے ہائیڈے’ میں لگی آگ تیسرے روز بھی جاری ہے، جس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اپنی لپیٹ میں لیے گئے رقبے کو دگنا کر دیا ہے۔ آگ اب تک 600 ہیکٹر سے زائد جنگلات اور ہیلتھ لینڈ کو راکھ کر چکی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق، تیز ہوائیں اور خشک جھاڑیاں آگ بجھانے کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ بیلجیئم اور ہالینڈ کی سرحد پر واقع اس ریزرو میں آگ کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ دھوئیں کے بادل قریبی رہائشی علاقوں تک پہنچ چکے ہیں، جس کے بعد مقامی انتظامیہ نے انٹورپ صوبے کے مکینوں کے لیے فضائی معیار کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا ہے۔
فائر بریگیڈ کے کمانڈر نے جائے وقوعہ پر میڈیا کو بتایا کہ اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم ماحولیاتی نقصان ناقابل تلافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم ایک ایسی آگ کا سامنا کر رہے ہیں جو ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ اپنی سمت بدل لیتی ہے۔ گراؤنڈ ٹیمیں تھک چکی ہیں، اب سارا انحصار فضائی مدد پر ہے تاکہ آگ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔”
ماہرینِ ماحولیات کے مطابق مغربی یورپ میں طویل خشک سالی اس تباہی کی بنیادی وجہ ہے۔ گزشتہ چھ ہفتوں سے بارش نہ ہونے کے باعث جنگل کا فرش بارود کی طرح خشک ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے معمولی سی چنگاری بھی بڑے شعلے میں بدل جاتی ہے۔
پولیس نے ریزرو کے تمام ہائیکنگ اور سائیکلنگ راستے غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے ہیں۔ حکام آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات کر رہے ہیں، تاہم ابتدائی طور پر انسانی غفلت یا کسی کیمپ فائر کو اس کا ذمہ دار سمجھا جا رہا ہے۔
ریسکیو ٹیموں کی اولین ترجیح قریبی دیہات کو محفوظ بنانا ہے۔ ویک اینڈ پر درجہ حرارت میں مزید اضافے کی پیش گوئی نے حکام کی تشویش بڑھا دی ہے، کیونکہ آگ کے شمالی سرحد عبور کرنے کے خدشات بدستور برقرار ہیں۔
