سیول: جنوبی کوریا کے دارالحکومت کے مکینوں کو گزشتہ رات بھی گرمی سے کوئی ریلیف نہ مل سکا۔ کوریا میٹرولوجیکل ایڈمنسٹریشن نے تصدیق کی ہے کہ سیول میں درجہ حرارت 30.3 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں گرا، جو 1907 میں ریکارڈ کی شروعات کے بعد سے رات کا بلند ترین درجہ حرارت ہے۔
یہ شہر میں مسلسل 11 ویں "ٹروپیکل نائٹ” تھی—یعنی ایسی رات جب درجہ حرارت صبح تک 25 ڈگری سے اوپر رہے۔ 2018 کے بعد یہ اپنی نوعیت کا طویل ترین سلسلہ ہے۔ ہائی پریشر سسٹم کے باعث حبس نے شہر کو ایک پریشر ککر میں تبدیل کر دیا ہے، جس کے بعد حکومت نے ہیٹ ویو کا اعلیٰ ترین الرٹ جاری کر رکھا ہے۔
یہ گرمی محض ایک موسم نہیں، عوامی صحت کا بحران بن چکی ہے۔ ملک بھر کے ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک اور شدید تھکن کے مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ وزارت داخلہ اور سیفٹی کے مطابق، اس ہفتے بجلی کی کھپت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے کیونکہ لاکھوں شہری حبس سے بچنے کے لیے ایئر کنڈیشنرز کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔
سیول کے گنگنم ڈسٹرکٹ میں ڈیلیوری کا کام کرنے والے کم جی سو نے بتایا: "ہوا بوجھل ہے۔ رات کے تین بجے بھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ سونا (Sauna) میں داخل ہو گئے ہوں۔ شفٹ ختم ہو جاتی ہے مگر جسم ٹھنڈا نہیں ہوتا۔”
یہ ہیٹ ویو دنیا بھر میں جاری شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا تسلسل ہے۔ یورپ کے ساحلوں سے لے کر شمالی امریکہ اور ایشیا کے مختلف حصوں تک، اعداد و شمار سائنسدانوں کی ان طویل مدتی وارننگز کی تصدیق کر رہے ہیں جن میں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ جزیرہ نما کوریا دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں تیزی سے گرم ہو رہا ہے، اور ماہرین کے مطابق موجودہ انفراسٹرکچر اس شدت کو برداشت کرنے کے قابل نہیں رہا۔
حکومت نے شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے اور پانی کا زیادہ استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے، تاہم محکمہ موسمیات کی جانب سے فوری ریلیف کی کوئی امید نہیں ہے۔ پیش گوئی کے مطابق، ہائی پریشر کا یہ غلاف مزید ایک ہفتے تک خطے پر موجود رہے گا۔
سیول کے باسیوں کے لیے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اب بھی ایک خواب ہے۔ اگلے چند دنوں کے موسم میں درجہ حرارت کم ہونے کے آثار نہیں، جس کے بعد شہر اب اپنی تاریخ کے سب سے کٹھن موسم گرما کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔
