حیدرآباد میں منگل کے روز ہونے والی موسلا دھار بارش نے شہر کا نظامِ زندگی مفلوج کر کے رکھ دیا۔ صبح سویرے شروع ہونے والی بوندا باندی دیکھتے ہی دیکھتے تیز بارش میں بدل گئی، جس کے نتیجے میں شہر کے نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔
شہر کی مرکزی شاہراہوں پر پانی جمع ہونے سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ دفتر جانے والے ہزاروں افراد گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے، جبکہ متعدد گاڑیوں کے انجن پانی میں بند ہو جانے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ میونسپل کارپوریشن کے ہنگامی مراکز میں گھروں اور دکانوں میں پانی داخل ہونے کی درجنوں شکایات موصول ہوئیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق محض چھ گھنٹوں کے دوران 80 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ شہر کے بوسیدہ نکاسی آب کے نظام کے لیے یہ بارش کسی امتحان سے کم ثابت نہیں ہوئی۔
مقامی دکاندار احمد رضا نے اپنی دکان میں داخل ہوتے پانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "یہ کہانی ہر سال دہرائی جاتی ہے۔ حکام ہر بار نکاسی آب کے بہتر نظام کے دعوے کرتے ہیں، مگر پہلی ہی بڑی بارش ان تمام دعووں کی قلعی کھول دیتی ہے۔”
دوپہر تک کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی، جس سے شہری مزید مشکلات میں گھر گئے۔ یوٹیلیٹی کمپنیوں کا عملہ پانی میں ڈوبے ٹرانسفارمرز تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم راستے بند ہونے کے باعث بحالی کا کام سست روی کا شکار ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، لیکن کاروبارِ زندگی کی معطلی سے معاشی نقصان کا سلسلہ جاری ہے۔
اگرچہ بارش کی شدت میں کچھ کمی آئی ہے، مگر سڑکوں پر موجود گڑھے پانی میں چھپے ہونے کے باعث حادثات کا سبب بن رہے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے اگلے 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارش کی پیش گوئی کی ہے، جس کے بعد شہر میں ہائی الرٹ برقرار ہے۔
فی الحال حیدرآباد کے باسی پانی اترنے کے منتظر ہیں، جبکہ شہریوں اور شہری انتظامیہ کے درمیان الزامات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
