آگ کے شعلے بجھ چکے ہیں، لیکن متاثرہ علاقوں میں زمین اب بھی سلگ رہی ہے۔ دور تک پھیلا ہوا سیاہ منظر نامہ تباہی کی داستان سنا رہا ہے، جہاں کہیں کہیں اب بھی جلی ہوئی لکڑیوں سے دھواں اٹھتا دکھائی دیتا ہے۔ رہائشی اب اپنی جان بچانے کی دوڑ سے نکل کر ایک کربناک حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں: تباہ شدہ گھروں کی تعمیرِ نو اور مستقبل میں ایسی آفات کو روکنے کا مشکل سوال۔
فائر فائٹرز اب بھی ان علاقوں میں موجود ہیں جہاں زیرِ زمین جڑیں سلگ رہی ہیں۔ ایک چنگاری یا تیز ہوا کا جھونکا اس آگ کو دوبارہ بھڑکا سکتا ہے، اسی لیے مقامی انتظامیہ کسی بھی قسم کی غفلت برتنے کو تیار نہیں۔ ایمرجنسی کوآرڈینیٹر کے لیے یہ وقت سکون کا نہیں، بلکہ حکمت عملی مرتب کرنے کا ہے۔
مقامی فائر چیف، جنہوں نے گزشتہ 96 گھنٹے آگ پر قابو پانے میں گزارے، کہتے ہیں، "ہم اب اپنی جانیں بچانے کے لیے نہیں بھاگ رہے، لیکن خطرہ بدستور موجود ہے۔ ہماری توجہ اس بات پر ہے کہ آگ کی حدود برقرار رہیں اور ہم یہ جان سکیں کہ آخر آگ کنٹرول لائن کو توڑ کر آبادی تک کیسے پہنچی۔”
کئی مقامات پر تباہی مکمل ہے۔ درجنوں گھر راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں، بجلی کے کھمبے زمین بوس ہیں اور پانی کی فراہمی کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ انشورنس ایجنٹ نقصانات کا تخمینہ لگانے میں مصروف ہیں، لیکن راکھ میں اپنی زندگی کی باقیات تلاش کرنے والے متاثرین کے لیے یہ اعداد و شمار کوئی تسلی نہیں رکھتے۔
اب ریاستی حکام پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ بتائیں کہ آگ کو روکنے کے لیے کیے گئے سابقہ اقدامات کیوں ناکام رہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جھاڑیوں کی صفائی نہ ہونا اور موسمِ سرما میں احتیاطی تدابیر کا فقدان اس تباہی کی بنیادی وجہ ہے۔ دوسری طرف محکمہ جنگلات کا موقف ہے کہ ریکارڈ توڑ خشک سالی نے جنگلات کو بارود کا ڈھیر بنا دیا تھا، جس کے سامنے روایتی حفاظتی اقدامات بے اثر ثابت ہوئے۔
جنگلات کے انتظام پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ ماحولیاتی گروپوں کا مطالبہ ہے کہ جنگلات کی صفائی کے طریقہ کار کو مکمل طور پر تبدیل کیا جائے، جبکہ مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ جھاڑیوں کی صفائی پر سخت ضوابط نے زمین کو پہلے سے زیادہ غیر محفوظ بنا دیا ہے۔
معاشی اثرات اب واضح ہو رہے ہیں۔ سیاحت پر انحصار کرنے والا مقامی کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہو چکا ہے۔ چھوٹے تاجروں کو اب بغیر گاہکوں کے ایک طویل موسمِ گرما اور تعمیرِ نو کے بھاری اخراجات کا سامنا ہے۔
دھویں کے سائے میں رہنے والے ان لوگوں کے لیے مطالبہ سادہ سا ہے: وہ چاہتے ہیں کہ جب اگلی بار موسم خشک ہو، تو ان کا علاقہ اس قدر غیر محفوظ نہ ہو۔ تب تک، وہ افق پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں، اس انتظار میں کہ یہ دھواں کب مکمل طور پر ختم ہوگا۔
