اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، پمزمیں مریض کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر وفاقی وزیر صحت ندیم جان نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خود کو احتساب کے لیے پیش کر دیا ہے۔ یہ قدم ہسپتال میں طبی غفلت کے الزامات اور عوامی احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے۔
متاثرہ خاندان اور سول سوسائٹی کے ارکان کا موقف ہے کہ مریض کو بروقت طبی امداد فراہم نہیں کی گئی، جس کے باعث ہسپتال کی انتظامیہ پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ وفاقی دارالحکومت کے صحت کے نظام کی خستہ حالی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جہاں عملے کی کمی اور مریضوں کا غیر معمولی رش معمول بن چکا ہے۔
ندیم جان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی قسم کی تحقیقات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ان کا عہدے پر رہنا شفاف انکوائری میں رکاوٹ بنتا ہے، تو وہ فوری طور پر مستعفی ہونے کو تیار ہیں۔
یہ پیشکش سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ کچھ حلقے اسے ایک مثبت مثال قرار دے رہے ہیں، جہاں حکومتی سطح پر غلطی تسلیم کرنے کا رجحان بہت کم ہے۔ دوسری جانب، اپوزیشن اسے محض دباؤ کم کرنے کی ایک حکمت عملی قرار دے رہی ہے، جس کا مقصد ہسپتال کی اعلیٰ انتظامیہ کو بچانا ہے۔
ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ گزشتہ کئی ماہ سے اپنی گنجائش سے دوگنا زیادہ مریضوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ ادویات کی قلت اور بستروں کی کمی کے باعث ڈاکٹرز اکثر اس کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں کہ کس مریض کو ترجیح دی جائے۔ طبی تنظیموں نے ان مسائل پر وزارت کو متعدد بار خبردار کیا تھا، تاہم زمینی حقائق میں بہتری نہ آ سکی۔
وزارتِ صحت کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جس کی رپورٹ 72 گھنٹوں میں متوقع ہے۔
اب ساری نظریں اس انکوائری پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ کمیٹی صرف نچلے درجے کے عملے کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے یا ہسپتال کے مجموعی نظام میں بہتری لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرتی ہے۔ وزیر صحت کی جانب سے احتساب کی پیشکش عوامی غم و غصے کو ٹھنڈا کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں تحقیقاتی نتائج سے ہو گا۔
