سائنس دانوں نے ایک سرخ بونے ستارے کے گرد گردش کرنے والے سیارے GJ 3378b کے بارے میں اپنے اندازے تبدیل کر لیے ہیں۔ نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ یہ سیارہ پہلے کے تصور سے کہیں زیادہ قابلِ رہائش ہو سکتا ہے، کیونکہ وہاں موجود فضا کا دباؤ مائع پانی کی موجودگی کو ممکن بناتا ہے، جو زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔
یہ سیارہ زمین سے تقریباً 12 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ برسوں تک ماہرین اسے ایک تپتا ہوا بنجر پتھر سمجھتے رہے، لیکن جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ سے ملنے والے تازہ ترین اعداد و شمار نے اس نظریے کو بدل دیا ہے۔ سیارے کے گرد موجود بادلوں کی تہہ توقع سے زیادہ پتلی اور پائیدار ہے، جو سیارے کی سطح پر درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
اس دریافت کا اہم پہلو یہ ہے کہ اب تک سائنس دان صرف زمین جیسے سیاروں کو تلاش کر رہے تھے، مگر GJ 3378b نے ایک نئی راہ کھول دی ہے۔ اگر ایک سرخ بونے ستارے کے گرد گھومنے والا سیارہ اپنا درجہ حرارت برقرار رکھ سکتا ہے، تو ہماری کہکشاں میں قابلِ رہائش دنیاؤں کی تعداد میں اچانک کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس تحقیق کی مرکزی سائنس دان ڈاکٹر ایلینا روسی کہتی ہیں: "ہمیں وہاں جس حرارتی توازن کا مشاہدہ ہوا ہے وہ غیر متوقع ہے۔ یہ محض گیس کے غلاف میں لپٹا ہوا پتھر نہیں، بلکہ ایک متحرک نظام ہے جو اپنے درجہ حرارت کو ہماری پیش گوئی سے کہیں بہتر انداز میں کنٹرول کر رہا ہے۔”
یہ سیارہ اپنے ستارے کے گرد صرف 14 دن میں چکر مکمل کرتا ہے۔ عام حالات میں ستارے کے اتنے قریب ہونا تابکاری کے باعث خطرناک ہوتا ہے، لیکن تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ GJ 3378b کا مقناطیسی میدان غیر معمولی طور پر مضبوط ہے۔ یہ ڈھال ستارے سے نکلنے والی تباہ کن لہروں کو روک کر سیارے کی فضا کو تحلیل ہونے سے بچاتی ہے۔
تحقیق کے ناقدین کا کہنا ہے کہ سرخ بونے ستارے غیر متوقع طور پر پرتشدد ہو سکتے ہیں، اور ایک طاقتور مقناطیسی میدان بھی بڑے شمسی طوفانوں کے سامنے بے بس ہو سکتا ہے۔ خود محققین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہاں "استحکام” کا مطلب مکمل تحفظ نہیں، بلکہ نسبتاً بہتر حالات ہیں۔
اب سائنس دانوں کی توجہ اس سیارے کی کیمیائی ساخت پر مرکوز ہے۔ اگر آنے والے مہینوں میں جیمز ویب ٹیلی سکوپ وہاں میتھین یا اوزون جیسے گیسوں کے آثار دریافت کر لیتی ہے، تو GJ 3378b کائنات میں حیات کی تلاش کا مرکزی ہدف بن جائے گا۔
یہ ڈیٹا اشارہ کرتا ہے کہ اب تک ہم شاید غلط معیارات پر زندگی کو تلاش کر رہے تھے۔ GJ 3378b شاید دوسری زمین نہ ہو، لیکن اس کی موجودگی یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ کائنات میں ہم تنہا نہیں ہیں۔
