18 اپریل 2026 کو ایران کی فوج کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ اس کی سابقہ حالت میں واپس لایا گیا ہے اور اب یہ گزرگاہ مسلح افواج کی “سخت نگرانی اور کنٹرول” میں ہے۔ یہ بیان ایک دن پہلے کے اس مؤقف سے واضح تبدیلی تھا، جب ایران نے کہا تھا کہ آبنائے تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھلی ہے۔
اس نئی پیش رفت کا فوری پس منظر امریکہ کا وہ اعلان بنا جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی، جب تک تہران کے ساتھ ایک وسیع تر معاہدہ طے نہیں ہو جاتا۔ اسی کے بعد ایران نے اشارہ دیا کہ جب تک امریکہ اپنا دباؤ کم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز میں آمدورفت بھی مکمل معمول پر نہیں آ سکتی۔
یہ بات اہم ہے کہ ایران نے صرف لفظی سختی نہیں دکھائی بلکہ گزرگاہ کے عملی استعمال کے لیے بھی نئی شرائط کا اشارہ دیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک ایرانی قانون ساز نے کہا کہ اب صرف وہی تجارتی جہاز گزر سکیں گے جنہیں انقلابی گارڈز کی منظوری حاصل ہوگی، اور انہیں ایران کی مقرر کردہ راہداری استعمال کرنا ہوگی اور مطلوبہ ٹول بھی ادا کرنا ہوگا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران محض راستہ بند یا کھلا رکھنے کی بات نہیں کر رہا بلکہ سمندری دباؤ کو ایک منظم کنٹرول کے نظام میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسی لیے یہ ہیڈلائن کسی سفارتی بریک تھرو کی نہیں بلکہ دوبارہ سختی کی علامت ہے۔ ایک دن پہلے جب ایران نے آبنائے کو “مکمل طور پر کھلا” قرار دیا تھا تو عالمی منڈیوں میں کچھ اطمینان پیدا ہوا تھا اور مذاکرات کی امید بھی بڑھی تھی۔ مگر اب پیغام مختلف ہے: راستہ مکمل طور پر آزاد نہیں بلکہ مشروط، محدود اور ایران کے کنٹرول سے جڑا ہوا ہے۔
وسیع تر سفارتی تصویر بھی بدستور الجھی ہوئی ہے۔ دستیاب رپورٹنگ کے مطابق اصل تنازعات ابھی برقرار ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام، بحری راستوں کی آزادی، اور امریکہ کے ساتھ کسی وسیع معاہدے کی شرائط شامل ہیں۔ مزید یہ کہ آبنائے ہرمز سے متعلق پیش رفتیں خطے کی دوسری کشیدگیوں، خصوصاً اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان نازک جنگ بندی، سے بھی الگ نہیں ہیں۔
اس معاملے کی عالمی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل کی رسد اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے جزوی پابندیاں، نئے ٹول، یا محدود راہداری جیسے اقدامات بھی عالمی منڈیوں کو فوراً متاثر کر سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ صورتِ حال کسی بڑے امنی موڑ کے بجائے سمندر میں دباؤ کے ذریعے سودے بازی جیسی دکھائی دیتی ہے۔ ایران نے راستہ مکمل طور پر بند نہیں کیا، مگر یہ واضح کر دیا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی برقرار ہے، آبنائے ہرمز بھی دباؤ کے دائرے سے باہر نہیں آئے گی۔ یوں یہ گزرگاہ ایک بار پھر ممکنہ مذاکرات کا مرکز بھی بن گئی ہے اور خطرے کا سب سے حساس مقام بھی۔
