لاہور کی مقامی عدالت نے حنا جاوید قتل کیس میں گرفتار دو مرکزی ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید چار روز کی توسیع کر دی ہے۔ تفتیشی ٹیم اب تک آلہ قتل برآمد کرنے اور قتل کی حتمی وجہ کا تعین کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث تفتیش کا عمل سست روی کا شکار ہے۔
منگل کے روز سخت سیکیورٹی میں ملزمان کو عدالت پیش کیا گیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے برآمد کیے گئے موبائل فونز کا فارنزک ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے، جس کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ پولیس کے مطابق، ملزمان کے بیانات اور ڈیجیٹل شواہد میں تضاد پایا گیا ہے جسے دور کرنے کے لیے تفتیش کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے۔
حنا جاوید کی لاش گزشتہ ہفتے ان کی رہائش گاہ سے ملی تھی، جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ سر پر بھاری آلے کا وار قرار دی گئی تھی، تاہم پولیس تاحال یہ واضح نہیں کر سکی کہ یہ قتل سوچی سمجھی سازش تھی یا کسی تلخ کلامی کا نتیجہ۔
ملزمان کے وکلاء نے ریمانڈ میں توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکلین تفتیش میں مکمل تعاون کر رہے ہیں اور پولیس بلاوجہ وقت ضائع کر رہی ہے۔ دوسری جانب سرکاری وکیل نے کیس کی سنگینی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اہم شواہد کی گمشدگی کے پیشِ نظر ملزمان کی تحویل ضروری ہے۔
عدالت نے وکلاء کے دلائل مسترد کرتے ہوئے ملزمان کو دوبارہ ہفتے کے روز پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ جج نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت تک کیس کا چالان مکمل کر کے پیش کیا جائے۔
مقتولہ کے لواحقین کے لیے انصاف کا انتظار طویل ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس کی توجہ اب ان فون کالز پر مرکوز ہے جو واردات سے چند گھنٹے قبل کی گئی تھیں۔ کیا یہ کالز قتل کی گتھیاں سلجھانے میں مددگار ثابت ہوں گی یا تفتیش مزید الجھ جائے گی، اس کا فیصلہ ہفتے کے روز پیش کیے جانے والے چالان سے ہی ہوگا۔
