حکومت نے ملک بھر میں غیر قانونی پیٹرول پمپس کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد اسمگل شدہ ایندھن کے اس نیٹ ورک کو توڑنا ہے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا تھا اور قانونی کاروبار کرنے والے ڈیلرز شدید مشکلات کا شکار تھے۔
آپریشن کے پہلے 48 گھنٹوں کے دوران انتظامیہ نے درجنوں ایسے پمپس کو سیل کر دیا ہے جن کے پاس نہ تو لائسنس تھے اور نہ ہی حفاظتی انتظامات۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے تمام صوبائی حکومتوں کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی کریں۔
یہ غیر قانونی پمپس زیادہ تر سرحد کے قریبی علاقوں سے آنے والا سستا اور ناقص معیار کا ایندھن فروخت کر رہے تھے۔ ٹیکس اور حکومتی ڈیوٹیز نہ دینے کی وجہ سے یہ مافیا ایندھن کو انتہائی کم قیمت پر بیچتے ہیں، جس کا مقابلہ کرنا قانونی پیٹرول پمپ مالکان کے لیے ناممکن ہو چکا تھا۔
کراچی کے ایک پیٹرول پمپ مالک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم تمام ٹیکس ادا کرتے ہیں، معیاری اسٹوریج رکھتے ہیں، لیکن کسٹمر ان غیر قانونی پمپس کی طرف چلا جاتا ہے کیونکہ وہاں ایندھن سستا ہے۔ یہ صورتحال ہمارے کاروبار کو تباہ کر رہی ہے۔”
انتظامیہ، پولیس اور پیٹرولیم ریگولیٹری اتھارٹی کی مشترکہ ٹیمیں صرف پمپس کو سیل نہیں کر رہیں بلکہ ان کے پیچھے موجود سپلائی چین کو بھی نشانہ بنا رہی ہیں۔ چھاپوں کے دوران بڑی مقدار میں ذخیرہ شدہ ایندھن، ٹینکرز اور پمپنگ مشینری کو قبضے میں لیا گیا ہے۔
دوسری جانب، یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ اسمگل شدہ ایندھن کا یہ کاروبار بہت گہرا ہے اور خاص طور پر سرحدی علاقوں میں ہزاروں افراد کا روزگار اسی سے وابستہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف پمپس بند کرنے سے کام نہیں چلے گا، جب تک کہ اسمگلنگ کے بڑے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم نہ کیا جائے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ صرف مالی نقصان کا معاملہ نہیں بلکہ انسانی جانوں کا بھی ہے۔ غیر قانونی طور پر ذخیرہ کیا گیا ایندھن اکثر و بیشتر مہلک آگ لگنے کا سبب بنتا ہے، جس کے متعدد واقعات ماضی میں سامنے آ چکے ہیں۔
آپریشن کا اگلا مرحلہ ان بڑے ڈسٹری بیوشن گروپس کا سراغ لگانا ہے جو سرحدوں سے ایندھن ملک کے اندرونی حصوں تک پہنچاتے ہیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا حکومت اس بار اسمگلنگ کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پاتی ہے یا یہ کارروائی صرف چند دنوں تک محدود رہے گی۔
