پنجاب اسمبلی نے منگل کے روز ایک متفقہ قرارداد منظور کی ہے جس میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ایوان کا ماننا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر موجود غیر اخلاقی مواد اور بے لگام سکرین ٹائم بچوں کی ذہنی صحت کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے اس معاملے پر غیر معمولی یکجہتی دکھائی۔ بحث کے دوران قانون سازوں نے موقف اختیار کیا کہ ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر ایپس کے الگورتھمز بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں، اور والدین کے پاس فی الحال انہیں روکنے کے لیے کوئی موثر ہتھیار نہیں ہے۔
ایک صوبائی وزیر نے بحث کے دوران کہا کہ "ہمارے بچوں کو جس قسم کے مواد تک رسائی حاصل ہے، وہ ان کی ذہنی نشوونما کو تباہ کر رہا ہے۔” تاہم، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس پابندی کو عملی جامہ پہنانے کا تکنیکی طریقہ کار کیا ہوگا یا حکومت اس پر عمل درآمد کیسے یقینی بنائے گی۔
قانونی ماہرین اور ٹیکنالوجی کے تجزیہ کار اس فیصلے کو ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمر کی تصدیق کا نظام، جسے ‘ایج گیٹنگ’ کہا جاتا ہے، تکنیکی اعتبار سے انتہائی پیچیدہ ہے۔ عالمی سطح پر بھی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں حکومتی سطح پر ایسی پابندیوں کے سامنے مزاحمت کرتی رہی ہیں، کیونکہ ان کے کاروباری ماڈل کا انحصار صارفین کی تعداد پر ہے۔
یہ قرارداد اب صوبائی کابینہ کو بھیجی جائے گی۔ کابینہ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ آیا اسے قانون سازی کا حصہ بنانا ہے یا وفاقی حکومت سے رابطہ کر کے اس پر قومی سطح پر کوئی پالیسی بنوانی ہے۔
فی الحال یہ ایک علامتی اقدام سے زیادہ کچھ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت محض قراردادوں سے آگے بڑھ کر کوئی قابلِ عمل ڈیجیٹل پالیسی لا سکے گی یا یہ معاملہ بھی بیانات کی حد تک ہی محدود رہے گا۔
