کیلیفورنیا کے جنگلات میں اپنے گھونسلے کے ذریعے دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں کی توجہ کا مرکز بننے والی گنجے سر والی عقاب ’جیکی‘ اب نہیں رہی۔ یو ایس فارسٹ سروس نے منگل کی رات اس کی موت کی تصدیق کر دی، جس کے ساتھ ہی سان برنارڈینو نیشنل فاریسٹ کی اس سب سے مشہور رہائشی کا ایک دہائی طویل سفر اختتام پذیر ہوا۔ اس کی عمر تقریباً 16 برس تھی۔
کئی برسوں تک ’بگ بیئر ایگل کیم‘ نے جیکی اور اس کے ساتھی ’شیڈو‘ کی زندگیوں کا ایک براہِ راست اور شفاف منظر دنیا کو دکھایا۔ ٹوکیو سے ٹورنٹو تک پھیلے پرندوں کے شوقین افراد روزانہ اس کیمرے کے سامنے بیٹھ کر اس جوڑے کی بلند و بالا پہاڑیوں پر پرورش کی سخت جدوجہد کو دیکھتے تھے۔ انہوں نے شدید برفانی طوفانوں کا سامنا کیا، شکاریوں سے اپنے گھونسلے کا دفاع کیا، اور کئی بار اپنے انڈوں کے ضائع ہونے کا دکھ بھی سہا۔
لوگوں کی یہ دلچسپی صرف ایک پرندے تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہ اس ہمت اور استقامت کا اعتراف تھا جو جیکی نے دکھائی۔ فروری کے ایک طوفان کے دوران جب وہ کئی فٹ برف میں دبی اپنے گھونسلے پر کھڑی رہی، تو وہ غیر ارادی طور پر عزم و ہمت کی ایک علامت بن گئی۔ دیکھنے والے اسے صرف دیکھتے نہیں تھے، بلکہ اس کی کامیابی کے لیے دعا گو رہتے تھے۔
مقامی وائلڈ لائف بائیولوجسٹ کا کہنا ہے کہ "وہ اس کمیونٹی کے لیے صرف ایک پرندہ نہیں تھی۔ لوگوں کا اس کی کامیابی میں ایک جذباتی تعلق جڑ چکا تھا۔ جب وہ گھونسلے میں خوراک لاتی تو ہزاروں لوگ سکون کا سانس لیتے، اور جب اس کے انڈے ضائع ہوتے تو وہ اس کے ساتھ غم میں شریک ہوتے۔”
جیکی کی موت نے بگ بیئر کے ماحولیاتی نظام میں ایک بڑا خلا پیدا کر دیا ہے۔ اگرچہ شیڈو ابھی بھی اسی علاقے میں موجود ہے، لیکن گھونسلے کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ عقاب اپنے علاقے کے معاملے میں انتہائی سخت گیر ہوتے ہیں، اور مادہ عقاب کی موت کے بعد اکثر نوجوان پرندے اس اہم ٹھکانے پر قبضہ کرنے کے لیے لڑائی شروع کر دیتے ہیں۔
فارسٹ سروس نے فی الحال کیمرے کی نشریات بند کر دی ہیں، تاکہ علاقے میں ہونے والی تبدیلیوں کے دوران پرندوں کے سکون کا احترام کیا جا سکے۔ موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد سامنے آئے گی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ مہینوں سے جیکی کی صحت مسلسل گر رہی تھی۔
وہ لائیو سٹریم جس نے ایک جنگلی پرندے کو عالمی شہرت یافتہ بنا دیا تھا، اب خاموش ہے۔ ان لاکھوں لوگوں کے لیے جنہوں نے اپنی صبحیں اس کی ہر حرکت پر نظر رکھتے ہوئے گزاریں، گھونسلے سے آنے والی یہ خاموشی اس کہانی کا آخری اور مشکل ترین باب ہے، جس نے یہ ثابت کیا کہ انسان سکرین کے ذریعے بھی جنگلی حیات سے کتنی گہری جذباتی وابستگی قائم کر سکتا ہے۔
