وزیراعظم شہباز شریف 23 مئی کو بیجنگ کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے، جو ان کے دوسرے دورِ حکومت میں چین کا پہلا باضابطہ دورہ ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان شدید معاشی بحران کا شکار ہے اور اسلام آباد اپنے دیرینہ اتحادی سے مالی استحکام کے لیے نئی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے۔
دورے کا ایجنڈا انتہائی اہم ہے۔ دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم صدر شی جن پنگ اور پریمیئر لی کیانگ سے ملاقاتوں میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کریں گے۔ سی پیک کا پہلا مرحلہ بنیادی ڈھانچے اور توانائی تک محدود تھا، تاہم اب توجہ صنعتی تعاون، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں پر مرکوز ہے۔
اسلام آباد کے لیے یہ دورہ فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف سے نئے طویل مدتی قرض پروگرام کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ چین، جو پاکستان کے بیرونی قرضوں کا ایک بڑا حصہ رکھتا ہے، سے قرضوں کی واپسی میں ریلیف ملنا اب محض سفارتی ہدف نہیں بلکہ ملکی معیشت کو دیوالیہ پن سے بچانے کی ضرورت بن چکا ہے۔
ایک اعلیٰ سفارتی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "وزیراعظم کا دورہ سی پیک کو ایک نئی سطح پر لے جانے کے لیے ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ وفد کی توجہ مین لائن-1 (ایم ایل-1) ریلوے منصوبے پر عملی پیش رفت پر ہے، جو فنڈنگ کے مسائل کی وجہ سے طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔
تاہم، بیجنگ کے سرمایہ کاری کے جوش و خروش میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے۔ خاص طور پر بشام میں چینی باشندوں پر حملے کے بعد سکیورٹی خدشات نے مذاکرات پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ چینی حکام نجی محفلوں میں اپنے شہریوں کی حفاظت پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں، اور اس دورے میں وزیراعظم شہباز شریف کو چینی قیادت کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ٹھوس سکیورٹی یقین دہانیاں کروانا ہوں گی۔
یہ دورہ وزیراعظم کی ذاتی سفارت کاری کا بھی امتحان ہے۔ شہباز شریف طویل عرصے سے چین کے ترقیاتی ماڈل کو پاکستان میں اپنانے کا عندیہ دیتے رہے ہیں۔ اندرونی سیاسی خلفشار اور ریکارڈ توڑ مہنگائی کے شکار ملک میں، انہیں عوام کو کچھ ٹھوس نتائج دکھانے کی ضرورت ہے۔
آیا یہ دورہ کسی بڑے مالیاتی بریک تھرو کا پیش خیمہ ثابت ہوگا یا یہ صرف روایتی سفارتی تعلقات کی تجدید تک محدود رہے گا، اس کا جواب آنے والے دنوں میں ملے گا۔
وزیراعظم 28 مئی کو وطن واپس پہنچیں گے، اور ان کے ان پانچ روزہ دورے کے دوران ہونے والے فیصلے ہی رواں برس پاکستان کی معاشی سمت کا تعین کریں گے۔
