راولپنڈی — چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے جمعرات کے روز جی ایچ کیو میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران پاک فوج کے افسران اور جوانوں کو فوجی اعزازات سے نوازا۔ یہ تقریب آپریشنز کے دوران بہادری اور نمایاں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کے اعتراف میں منعقد کی گئی۔
تقریب کے دوران ان جوانوں اور افسران کے سینوں پر تمغے سجائے گئے جنہوں نے ڈیوٹی کے دوران غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا۔ یہ روایتی تقریب ان اہلکاروں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک ذریعہ ہے جو خاص طور پر سرحدوں اور انسدادِ دہشت گردی کے محاذوں پر سخت حالات کا سامنا کرتے ہیں۔
جنرل عاصم منیر نے اعزاز پانے والے اہلکاروں کے اہل خانہ سے ملاقات بھی کی۔ جن شہداء کو بعد از مرگ اعزازات دیے گئے، ان کے لواحقین کے لیے یہ دن جذباتی کیفیت کا حامل تھا۔ آرمی چیف نے ان خاندانوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قوم اور ادارہ ان قربانیوں کا مقروض ہے جو ملک کے دفاع کے لیے دی گئیں۔
عطا کیے گئے اعزازات میں تمغہ امتیاز اور ستارہ بسالت شامل ہیں۔ یہ تمغے محض رسمی کارروائی نہیں، بلکہ ان خفیہ اور مشکل آپریشنز کا اعتراف ہیں جو عوامی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں، جن میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور مشکل ترین علاقوں میں سیکیورٹی کی بحالی شامل ہے۔
عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق، ایسی تقریبات دو مقاصد رکھتی ہیں۔ یہ نہ صرف صفوں میں مورال بلند کرتی ہیں بلکہ انفرادی بہادری کو نمایاں کر کے فوج کے بطور محافظِ وطن کردار کو بھی مستحکم کرتی ہیں۔
اگرچہ فوج کا آپریشنل ردھم ہمہ وقت برقرار رہتا ہے، لیکن یہ تقریبات ایک مختصر وقفے کی مانند ہوتی ہیں۔ یہ توجہ ہائی کمان کی اسٹریٹجک منصوبہ بندی سے ہٹا کر ان سپاہیوں کی طرف لے آتی ہے جو زمین پر ان فیصلوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔
تقریب کے اختتام کے ساتھ ہی، شرکاء کی توجہ واپس اپنے فرائض کی جانب مرکوز ہو گئی۔ اعزاز پانے والے اہلکار اپنی یونٹس میں واپس لوٹ گئے، جہاں ملک کے دفاع کے تقاضے ان کے منتظر تھے۔
