اسلام آباد: پاکستان کا ترقیاتی ایجنڈا مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں شدید دباؤ کا شکار دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ حکومت عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ سخت مالی اہداف کے تحت اخراجات کو محدود رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس صورتحال کے باعث کئی نئے ترقیاتی منصوبے تاخیر، کٹوتی یا منظوری نہ ملنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
رپورٹس کے مطابق وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام، یعنی PSDP، کے لیے تقریباً 1.126 کھرب روپے کی حد مقرر کی گئی ہے، جبکہ مختلف وزارتوں کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے تقریباً 4.097 کھرب روپے کی طلب سامنے آئی۔ اس بڑے فرق نے حکومت کے لیے ترقیاتی ترجیحات طے کرنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔
منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی مالی ضروریات اور دستیاب وسائل کے درمیان تقریباً 3 کھرب روپے کا خلا موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جاری منصوبوں کی ذمہ داریوں کو قابو میں نہ لایا گیا تو ترقیاتی شعبے میں ایک نیا “سرکلر ڈیٹ” بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
بجٹ 2026-27 ایسے وقت میں تیار کیا جا رہا ہے جب پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالی نظم و ضبط، اخراجات میں کمی، ٹیکس آمدن میں اضافے اور بنیادی سرپلس کے اہداف پورے کرنے کے دباؤ میں ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط کے تحت حکومت کو مالی سال 2027 میں جی ڈی پی کے تقریباً 2 فیصد بنیادی سرپلس کا ہدف حاصل کرنا ہے، جس کے باعث ترقیاتی اخراجات کے لیے گنجائش محدود ہو گئی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایک مشکل توازن کا سامنا ہے۔ ایک طرف حکومت کو آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال رکھنا ہے، جبکہ دوسری طرف عوامی ترقی، روزگار، انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، پانی، توانائی اور ٹرانسپورٹ جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نئے منصوبوں کے بجائے جاری اور اہم نوعیت کے منصوبوں کو ترجیح دینے پر غور کر رہی ہے۔ اس پالیسی کے تحت وہ منصوبے پہلے فنڈز حاصل کریں گے جن کی تکمیل قریب ہے یا جو قومی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے برعکس کئی نئے منصوبوں کو محدود فنڈنگ، تاخیر یا مکمل طور پر روک دیے جانے کا سامنا ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں ترقیاتی بجٹ پہلے ہی کئی برسوں سے دباؤ کا شکار رہا ہے۔ مالی مشکلات، قرضوں کی ادائیگی، دفاعی اخراجات، پنشن، تنخواہوں اور سبسڈیز کے باعث حکومت کے پاس ترقیاتی منصوبوں کے لیے محدود وسائل بچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی حکومت مالی خسارہ کم کرنے کی کوشش کرتی ہے تو سب سے پہلے ترقیاتی اخراجات متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ترقیاتی اخراجات میں کمی کا اثر صرف سرکاری منصوبوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے معیشت کی طویل مدتی رفتار بھی متاثر ہوتی ہے۔ سڑکیں، ڈیم، اسپتال، یونیورسٹیاں، توانائی کے منصوبے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے انفراسٹرکچر جیسے شعبے براہ راست عوامی زندگی اور کاروباری سرگرمیوں سے جڑے ہوتے ہیں۔
حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ محدود مالی وسائل کے باعث ترقیاتی منصوبوں کی چھانٹی ناگزیر ہو چکی ہے۔ حکام کے مطابق ماضی میں بہت سے منصوبے شروع کیے گئے مگر انہیں مکمل کرنے کے لیے مناسب فنڈز فراہم نہیں کیے گئے، جس سے لاگت میں اضافہ اور منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر ہوئی۔
اب حکومت کو بجٹ 2026-27 میں ایک مشکل فیصلہ کرنا ہوگا: آیا وہ آئی ایم ایف کے مالی اہداف کو ترجیح دیتے ہوئے ترقیاتی اخراجات مزید محدود کرے یا معاشی بحالی اور عوامی سہولت کے لیے اہم منصوبوں کو بچانے کی کوشش کرے۔
موجودہ صورتحال سے واضح ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ ترقیاتی توسیع کے بجائے مالی پابندیوں، محدود وسائل اور آئی ایم ایف کی شرائط کے زیر اثر تشکیل پائے گا۔
