پاکستان ریلویز نے اپنے ریٹائرڈ اور حاضر سروس ملازمین کے برسوں سے التوا کا شکار واجبات کی ادائیگی کے لیے 25 ارب روپے جاری کر دیے ہیں۔ یہ رقم پنشن، گریجویٹی اور تنخواہوں میں اضافے کے بقایا جات کی مد میں تقسیم کی جائے گی۔
اس اقدام سے ہزاروں ایسے ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو فوری ریلیف ملے گا جو گزشتہ 18 ماہ سے اپنے قانونی حق کے منتظر تھے۔ مالی بحران میں گھری ریلویز انتظامیہ کے لیے یہ فیصلہ ملازمین میں بڑھتے ہوئے غم و غصے اور قانونی چارہ جوئی کے دباؤ کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔
وزارتِ ریلویز کے مطابق یہ فنڈز وفاقی حکومت کی جانب سے ایک خصوصی گرانٹ کے ذریعے فراہم کیے گئے ہیں، جس کا مقصد ریٹائرڈ ملازمین کو درپیش "انسانی بحران” کا خاتمہ ہے۔ منگل کے روز ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ "ہم بیواؤں اور نچلے گریڈ کے ان ملازمین کو ترجیح دے رہے ہیں جنہیں 2022 سے پنشن کے مکمل فوائد نہیں مل سکے۔” انہوں نے اعتراف کیا کہ ادائیگیوں میں تاخیر نے ادارے کا اپنے ملازمین پر اعتماد بری طرح مجروح کیا ہے۔
پاکستان ریلویز کے مالی مسائل کوئی نئی بات نہیں، لیکن گزشتہ سال سیلاب سے انفراسٹرکچر کی تباہی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ پنشن کا بل ادارے کی تنخواہوں کے بجٹ کے برابر ہو چکا تھا، جو کسی بھی سرکاری ادارے کی معاشی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
ملازمین کی یونینز نے فنڈز کے اجراء کا خیرمقدم تو کیا ہے، مگر وہ بدستور محتاط ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 25 ارب روپے کا پیکیج صرف ایک وقتی مرہم ہے، جو ادارے کے ساختیاتی خسارے کا حل نہیں۔
لاہور کے مغلپورہ ورکشاپ میں موجود ایک لیبر نمائندے نے کہا، "یہ رقم ایک عارضی سہارا ہے۔ ہمارے لوگ گزشتہ کئی ماہ سے گھر چلانے کے لیے بھاری سود پر قرض لینے پر مجبور تھے۔ ہمیں ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں ہماری پنشن اسلام آباد سے ملنے والی خصوصی امداد کی محتاج نہ رہے۔”
انتظامیہ کو اب سب سے بڑا چیلنج یہ درپیش ہے کہ ان فنڈز کو بغیر کسی بیوروکریٹک رکاوٹ کے ملک بھر میں ریٹائرڈ ملازمین کے اکاؤنٹس تک پہنچایا جائے۔
اگرچہ اس حکومتی امداد سے ریلوے کو کچھ وقت کے لیے سانس لینے کا موقع ملا ہے، لیکن بنیادی معاشی حقائق بدستور تشویشناک ہیں۔ ادارے کی آمدنی کا نصف حصہ پنشن کی ادائیگیوں میں چلا جاتا ہے، جو طویل مدتی استحکام کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ فی الحال، اس اقدام سے ہزاروں گھرانوں کو معاشی بوجھ میں کچھ کمی ضرور محسوس ہوگی۔
