پاکستان میں عید الاضحیٰ کے تینوں دنوں کے دوران شدید گرمی کی لہر برقرار رہے گی۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ عید کے موقع پر ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ رہے گا۔
پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں دن کا درجہ حرارت 40 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔ عید کے دوسرے دن جنوبی پنجاب اور بالائی سندھ کے کچھ حصوں میں پارہ 47 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھو سکتا ہے، جس سے ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
یہ شدید گرمی قربانی کے عمل کو مشکل بنا سکتی ہے۔ مویشی منڈیوں میں گھنٹوں گزارنے والے شہری اور قربانی کے فرائض سرانجام دینے والے افراد دوپہر کے اوقات میں براہِ راست دھوپ کا سامنا کریں گے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صبح 11 بجے سے سہ پہر 4 بجے تک غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کیا جائے۔
محکمہ موسمیات کے ایک سینیئر ماہرِ موسمیات نے بتایا کہ "درجہ حرارت کا فرق بڑھ رہا ہے۔ ہم صرف اوسط سے زیادہ گرمی نہیں دیکھ رہے، بلکہ یہ ایک ایسی شدید تپش ہے جس میں شام کے وقت بھی معمول کے مطابق موسم ٹھنڈا ہونے کے امکانات کم ہیں۔”
اگرچہ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں موسم کسی حد تک بہتر رہے گا، لیکن شہری مراکز کی بڑی آبادی کو شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ محکمہ موسمیات نے صوبائی حکام کو ہدایت کی ہے کہ ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی آمد کے پیشِ نظر پیشگی انتظامات مکمل رکھیں۔
عید کے دوران زیادہ تر توجہ قربانی پر مرکوز رہتی ہے۔ تاہم، بجلی کی طلب میں اضافے اور شدید گرمی کے اس امتزاج نے مقامی سطح پر بجلی کی ممکنہ بندش کے خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔
پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں اور دھوپ میں نکلنے سے بچیں۔ یہ موسم محض گرم نہیں بلکہ خطرناک حد تک تپش زدہ ہے۔
