شمالی وزیرستان — سیکیورٹی فورسز نے منگل کے روز ایک خفیہ اطلاع پر مبنی آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم کے انتہائی مطلوب کمانڈر طور ثاقب کو ہلاک کر دیا۔ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی جب علاقے میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی دیکھی جا رہی تھی۔
طور ثاقب سیکیورٹی اداروں کو کئی برسوں سے مطلوب تھا۔ وہ علاقے میں سیکیورٹی تنصیبات پر ہونے والے متعدد بڑے حملوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا تھا۔ اس کی ہلاکت کو سیکیورٹی حکام نے دہشت گردی کے نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔
انٹیلی جنس حکام کے مطابق آپریشن کا آغاز درست نشاندہی اور نگرانی کے بعد کیا گیا۔ جب سیکیورٹی اہلکاروں نے مشتبہ ٹھکانے کا محاصرہ کیا تو شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ کارروائی کے دوران طور ثاقب اپنے چند ساتھیوں سمیت مارا گیا۔ ہلاکت کے بعد فورسز نے علاقے کو کلیئر کر کے اسلحہ اور بارودی مواد اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
اس کمانڈر کی موت سے دہشت گرد گروہ کی تنظیمی ڈھانچہ وقتی طور پر کمزور پڑ گیا ہے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ طور ثاقب جیسے اہم کمانڈر کا خاتمہ گروہ کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ تاہم، ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ قیادت کے خلا کو پُر کرنے کے لیے گروہ کے اندرونی دھڑے سرگرم ہو سکتے ہیں، جس سے سیکیورٹی چیلنجز برقرار رہ سکتے ہیں۔
شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقوں میں گزشتہ چند ماہ سے سیکیورٹی فورسز نے کارروائیوں میں تیزی لائی ہے۔ ان کا مقصد عسکریت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنا اور سرحد پار نقل و حرکت کو روکنا ہے۔ اگرچہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن اصل چیلنج اس نیٹ ورک کے باقی ماندہ عناصر کو جڑ سے اکھاڑنا ہے۔
علاقے کے مکین اس کارروائی کو امن کی جانب ایک قدم قرار دے رہے ہیں۔ سیکیورٹی حکام کے لیے اب اگلا مرحلہ یہ ہے کہ اس ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والے ممکنہ ردعمل کو روکا جائے اور علاقے میں اپنی گرفت کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
