صومالی قزاقوں نے خوراک، پانی اور دیگر ضروری سامان کی کمی کے باعث اغوا کی گئی متحدہ عرب امارات کی ایک روایتی کشتی چھوڑ دی۔
اطلاعات کے مطابق قزاقوں نے کشتی کو اپنے قبضے میں لیا تھا، تاہم رسد کم ہونے کے باعث وہ اسے مزید اپنے کنٹرول میں نہ رکھ سکے۔ بعد ازاں قزاق کشتی چھوڑ کر فرار ہوگئے۔
عملے کی حالت اور کشتی کی بازیابی سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یہ واقعہ صومالیہ، خلیج عدن اور بحیرہ عرب کے قریب سمندری سلامتی سے متعلق خدشات کو ظاہر کرتا ہے، جہاں ماضی میں قزاقی عالمی جہاز رانی کے لیے بڑا مسئلہ رہی ہے۔
سلامتی کے ماہرین کے مطابق اگرچہ بین الاقوامی بحری نگرانی کے باعث قزاقی کے واقعات میں کمی آئی ہے، تاہم یہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ رسد کی کمی اور سخت نگرانی قزاقوں کو طویل کارروائیاں جاری رکھنے سے روک دیتی ہے۔
