پاکستان نے جمعرات، 7 مئی 2026 کو کہا کہ اسے توقع ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ “جلد، نہ کہ بہت دیر بعد” طے پا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے بعد سفارتی کوششیں ایک بار پھر تیز دکھائی دے رہی ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان پرامید ہے اور جہاں بھی کوئی سمجھوتا طے پاتا ہے، اسلام آباد اس کا خیرمقدم کرے گا۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر اندرابی نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی معاہدہ پاکستان میں طے پاتا ہے تو یہ ہمارے لیے “باعثِ اعزاز” ہوگا۔ تاہم انہوں نے کسی ممکنہ مسودے، شرائط یا حتمی ٹائم لائن پر بات کرنے سے گریز کیا۔ ان کا لہجہ البتہ معمول کی محتاط سفارت کاری کے مقابلے میں زیادہ امید افزا تھا۔
یہ بیان اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان خود کو اس بحران میں محض ایک تماشائی کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہتا۔ وزیر اعظم شہباز شریف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے سفارتی سطح پر سرگرم ہے۔ پاکستانی حکام بار بار یہ مؤقف دہرا رہے ہیں کہ مسئلے کا حل فوجی تصادم میں نہیں بلکہ مذاکرات میں ہے۔
اس پورے معاملے کا پس منظر کافی سنگین ہے۔ موجودہ کشیدگی کا آغاز 28 فروری کو ہوا تھا، جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے۔ بعد ازاں 8 اپریل سے ایک نازک جنگ بندی بڑی حد تک برقرار ہے، لیکن اس کے باوجود مذاکرات کا عمل ابھی تک کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکا۔ گزشتہ ماہ پاکستان میں ہونے والے رابطوں اور سفارتی بات چیت سے بھی کوئی فیصلہ کن نتیجہ سامنے نہیں آیا، اگرچہ اسلام آباد اب بھی اس بات پر زور دے رہا ہے کہ بات چیت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔
صورتحال کی سنگینی کا ایک بڑا سبب آبنائے ہرمز بھی ہے، جو دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ جنگ کے دوران اس سمندری راستے میں شدید خلل پڑا، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں بے چینی بڑھی اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آیا۔ سینکڑوں تجارتی جہاز متاثر ہوئے اور توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات مزید گہرے ہو گئے۔
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، لیکن مجوزہ معاہدے کی اصل تفصیلات اب بھی واضح نہیں ہیں۔ امریکی حکومت نے اس تجویز کو مکمل طور پر عوامی سطح پر سامنے نہیں رکھا، جبکہ ایرانی ذرائع ابلاغ نے بعض بین الاقوامی رپورٹس کو قیاس آرائی قرار دیا ہے۔ یہی اس وقت کی اصل تصویر بھی ہے: پیش رفت کے اشارے موجود ہیں، لیکن مکمل شفافیت ابھی نہیں۔
پاکستان کی سرکاری زبان میں احتیاط اب بھی نمایاں ہے۔ دفتر خارجہ نے نہ تو مذاکرات کی تفصیلات بیان کیں اور نہ ہی پس پردہ رابطوں پر زیادہ بات کی۔ اس کے باوجود یہ واضح ہے کہ اسلام آباد اس عمل میں ایک مثبت اور ممکنہ سہولت کار کے طور پر دیکھا جانا چاہتا ہے۔ ساتھ ہی پاکستان کے لیے یہ بھی اہم ہے کہ سرحدوں کے قریب جاری کشیدگی مزید نہ بڑھے، کیونکہ اس کے معاشی اور سکیورٹی اثرات پورے خطے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان کی یہ امید واقعی کسی عملی پیش رفت میں بدلتی ہے یا نہیں۔ فی الحال اسلام آباد کا اندازہ یہی ہے کہ مذاکرات، چاہے سست روی سے ہی سہی، کسی نہ کسی معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کئی ماہ کی جنگ، غیر یقینی صورتحال اور متضاد اشاروں کے بعد، اس وقت یہی سب سے بڑی خبر ہے۔
