سعودی ریال (SAR) آج 28 اپریل 2026 کو اوپن مارکیٹ میں 74.35 پاکستانی روپے پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی محتاط مانیٹری پالیسی کے باعث مقامی کرنسی عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود ایک تنگ دائرے میں بند ہے۔
بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ترسیلاتِ زر کی صورتحال گزشتہ ہفتے جیسی ہی ہے۔ ایکسچینج کمپنیوں کے مطابق، اگرچہ عمرہ سیزن کے باعث ریال کی مانگ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں رسد تسلی بخش ہونے کی وجہ سے شرح میں کسی بڑے اضافے کا امکان نہیں ہے۔
سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی کارکنوں کے لیے موجودہ ریٹ کا مطلب ہے کہ ان کی ماہانہ ترسیلات کی قوتِ خرید گزشتہ سات دنوں کے مقابلے میں تقریباً برقرار ہے۔ یہ استحکام ان خاندانوں کے لیے ایک بڑی ریلیف ہے جو گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے غیر ملکی کرنسی پر انحصار کرتے ہیں۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرنسی کی قدر فی الحال دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اتار چڑھاؤ سے الگ تھلگ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مرکزی بینک کی جانب سے سٹے بازی کو روکنے کے اقدامات ہیں، جس نے سرکاری بینکنگ ریٹس اور اوپن مارکیٹ کے درمیان فرق کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔
کراچی کے مالیاتی مرکز میں کام کرنے والے ایک سینئر کرنسی ٹریڈر نے کہا، "مارکیٹ فی الحال انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر گامزن ہے۔ جب تک عالمی توانائی کی قیمتوں میں کوئی بڑا ردوبدل نہیں ہوتا یا سٹیٹ بینک اپنی شرح سود میں اچانک تبدیلی نہیں لاتا، ریال کی قیمت اس تنگ دائرے سے باہر نکلتی دکھائی نہیں دیتی۔”
حکومت اگرچہ اپنے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے، تاہم کرنسی پیئر کا فوری منظرنامہ ایک پرسکون دور کی نشاندہی کر رہا ہے۔ فی الحال، دونوں کرنسیوں کے درمیان توازن وسیع تر معاشی تبدیلیوں کے بجائے مستحکم سپلائی چین کا نتیجہ ہے۔
آئندہ مالیاتی جائزے میں چند ہفتے باقی ہیں، اور مارکیٹ کے شرکاء وزارتِ خزانہ کی جانب سے کسی ایسے اشارے کے منتظر ہیں جو موجودہ توازن کو متاثر کر سکے۔ تب تک، 74 روپے کی حد ہی روزانہ کی تجارت کا بنیادی معیار بنی رہے گی۔
