ملک بھر کے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے طویل عرصے سے جاری ٹیکس تنازع میں پیش رفت ہوئی ہے۔ ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے اجلاس کے دوران حکام نے چھوٹے ریٹیلرز کے لیے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے عمل کو آسان بنانے کے نئے فریم ورک کی تصدیق کر دی ہے۔
یہ اقدام ان تاجر تنظیموں کے مطالبے پر اٹھایا گیا ہے جو مسلسل یہ موقف اختیار کر رہی تھیں کہ موجودہ ٹیکس رجسٹریشن کا عمل ان کے لیے انتہائی پیچیدہ اور بوجھل ہے۔ ایف بی آر اب سخت آڈٹ کے بجائے ایک سادہ ‘فلیٹ ریٹ’ ٹیکس ڈھانچے پر توجہ مرکوز کرے گا، جس کا اطلاق محدود سالانہ ٹرن اوور والے کاروباروں پر ہوگا۔
ایف بی آر کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم چھوٹے تاجروں پر پڑنے والے انتظامی بوجھ کو سمجھتے ہیں۔ ہمارا مقصد ان کاروباروں کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانا ہے، نہ کہ انہیں کاغذات اور پیچیدہ قوانین میں الجھانا۔”
عام دکاندار کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب انہیں روایتی انکم ٹیکس گوشواروں کے بجائے ایک سادہ ‘رجسٹریشن اسکیم’ کے تحت ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ حکام کے مطابق، جو تاجر اس نئی کیٹیگری میں رجسٹر ہوں گے، انہیں روایتی آڈٹ کے عمل سے استثنا حاصل ہوگا۔ تاہم، یہ سہولت صرف ان تاجروں کے لیے ہوگی جن کا ٹرن اوور مقررہ حد سے کم ہوگا۔
ایف بی آر نے ابھی تک ٹرن اوور کی حتمی حد کا اعلان نہیں کیا، لیکن اجلاس میں شریک تاجر رہنماؤں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ تاجروں کا طویل عرصے سے یہ شکوہ تھا کہ موجودہ نظام کے تحت انہیں صرف ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے لیے مہنگے مشیر رکھنے پڑتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سہ ماہی کے دوران ایف بی آر اور تاجر برادری کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی۔ ٹیکس حکام کی جانب سے غیر رجسٹرڈ کاروباروں کو دستاویزی بنانے کی کوششوں کے بعد بڑے تجارتی مراکز میں ہڑتالیں اور مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے، جس کے بعد حکومت اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوئی۔
معاشی ماہرین کے لیے اب بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ریلیف پیکج ٹیکس وصولیوں میں اضافے کا باعث بنے گا؟ ایف بی آر کا قیاس یہ ہے کہ ٹیکس دائرہ کار میں آنے والے چھوٹے تاجروں کی بڑی تعداد سے حاصل ہونے والا ریونیو، آسان ٹیکس ڈھانچے سے ہونے والے ممکنہ نقصان کی تلافی کر دے گا۔
حکومت کی جانب سے رجسٹریشن کے عمل کی تفصیلات پر مبنی باقاعدہ نوٹیفکیشن اس ہفتے کے آخر تک متوقع ہے۔ اس اقدام کی کامیابی کا انحصار اب اس بات پر ہے کہ ایف بی آر کتنی تیزی سے اپنا سادہ ڈیجیٹل پورٹل فعال کرتا ہے اور آیا مقامی مارکیٹ ایسوسی ایشنز ان شرائط کو اپنے کاروبار کے لیے پائیدار سمجھتی ہیں یا نہیں۔
