پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں 22 اپریل 2026 کو ایرانی ریال کی قدر مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، جس کی بنیادی وجہ خطے میں جاری جغرافیائی کشیدگی اور سرحد پار تجارت میں حائل رکاوٹیں ہیں۔ تہران کی جانب سے سرکاری سطح پر ریال کی شرح مقرر ہونے کے باوجود، کوئٹہ اور کراچی جیسے بڑے کاروباری مراکز میں اوپن مارکیٹ ریٹ اور سرکاری نرخوں کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔
مقامی کرنسی ڈیلرز کے مطابق، ریال کی قیمت 0.0065 سے 0.0070 پاکستانی روپے کے درمیان گھوم رہی ہے، تاہم اس میں ہر گھنٹے کے ساتھ تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست بینکنگ چینلز کی عدم دستیابی کے باعث زیادہ تر لین دین ‘ہنڈی’ کے غیر رسمی نظام کے ذریعے ہو رہا ہے، جہاں خطرے کا عنصر (Risk Premium) اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔
کراچی کے آئی آئی چندریگر روڈ پر کام کرنے والے ایک کرنسی ڈیلر نے بتایا، "اس وقت کوئی بھی ریال اپنے پاس رکھنے کو تیار نہیں۔ ڈالر کی مانگ مستقل ہے، لیکن ریال ایک جوے کی طرح ہے۔ اگر سرحد پر صورتحال تھوڑی بھی تبدیل ہو تو آپ کا سارا سرمایہ ایک ہی رات میں ڈوب سکتا ہے۔”
یہ اتار چڑھاؤ سرحدی تجارت کو براہ راست متاثر کر رہا ہے۔ چاول، ٹیکسٹائل اور پھلوں کی برآمد سے وابستہ چھوٹے تاجروں کا کہنا ہے کہ بینکنگ سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے انہیں غیر رسمی تبادلے پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کے منافع کی شرح بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اب بہت سے تاجر ریال لینے کے بجائے پاکستانی روپے یا اشیائے خوردونوش کے تبادلے (Barter) کو ترجیح دے رہے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایرانی کرنسی مارکیٹ سے محتاط دوری اختیار کر رکھی ہے، جس کی بڑی وجہ بین الاقوامی پابندیوں کا خطرہ ہے۔ عام تاجر کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی کاروباری نقصان کی صورت میں کوئی سرکاری تحفظ موجود نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے مرکزی بینکوں کے درمیان کسی باضابطہ کلیئرنگ ہاؤس کی عدم موجودگی نے اس تجارت کو ‘شیڈو اکانومی’ تک محدود کر دیا ہے، جو ریگولیٹرز کی نظروں سے تو اوجھل ہے لیکن سرحدی علاقوں کی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔
خطے میں جاری سفارتی تعطل کے خاتمے تک ایرانی ریال کی قدر میں یہ غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔ تاجروں کے لیے اب مسئلہ صرف ایکسچینج ریٹ کا نہیں، بلکہ اس کرنسی کو اپنے پاس رکھنے کا بڑا مالی رسک ہے۔
