یورپی اتحاد نے یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے قرضے کی راہ ہموار کر دی ہے، اور یہ پیش رفت کئی ماہ کے تعطل کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس رکاوٹ کی بڑی وجہ ڈروژبا تیل پائپ لائن کا بند ہونا اور اس پر پیدا ہونے والا سیاسی تنازع تھا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق یوکرین نے متاثرہ حصے کی مرمت مکمل کر لی، جس کے بعد ہنگری اور سلوواکیہ کی جانب تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہوئی اور اسی کے ساتھ مالی پیکیج پر جمی برف بھی پگھل گئی۔
22 اپریل کو یورپی اتحاد کے سفیروں نے اس پیکیج کی حمایت کی۔ رپورٹوں کے مطابق یہ قرضہ 2026 اور 2027 میں یوکرین کی مالی ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرنے کے لیے دیا جا رہا ہے۔ موجودہ کوریج کے مطابق اسے 45، 45 ارب یورو کی دو بلاسود قسطوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جبکہ اس کی واپسی مستقبل میں روسی ہرجانے سے مشروط بتائی جا رہی ہے۔ یورپی کونسل اس سے پہلے بھی 90 ارب یورو کی مالی مدد کے قانونی ڈھانچے پر اپنی پوزیشن واضح کر چکی تھی۔
اس پورے تعطل کے مرکز میں ہنگری کا اعتراض تھا۔ بوڈاپیسٹ نے ڈروژبا پائپ لائن کے ذریعے تیل کی فراہمی کے تنازع کی وجہ سے اس قرضے کو روکے رکھا ہوا تھا، کیونکہ یہ لائن ہنگری اور سلوواکیہ کے لیے نہایت اہم رسد کا ذریعہ ہے۔ جیسے ہی مرمت مکمل ہوئی اور ترسیل دوبارہ شروع ہوئی، ویٹو بھی ہٹ گیا اور قرضے کی منظوری کا راستہ صاف ہو گیا۔
کییف کے لیے یہ صرف مالی مدد نہیں بلکہ سیاسی اہمیت کا معاملہ بھی ہے۔ جنگ کے طویل ہونے کے باعث یوکرین مسلسل اپنے یورپی اتحادیوں سے قابلِ اعتماد اور طویل المدت مالی تعاون مانگ رہا تھا۔ صدر وولودیمیر زیلینسکی نے یورپی اقدام کو “درست اشارہ” قرار دیا، یعنی ان کے نزدیک یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی حمایت اب بھی عملی مالی مدد میں بدل سکتی ہے۔
