اسلام آباد: حکومت کی تازہ پیٹرولیم قیمتوں میں رد و بدل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں معمولی کمی جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پاکستان اسٹیٹ آئل کے جاری کردہ تازہ نرخوں کے مطابق 30 اپریل 2026 سے مٹی کے تیل (SKO) کی قیمت 360 روپے 76 پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل آئل (LDO) کی قیمت 287 روپے 54 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی نظرثانی میں پیٹرول 399 روپے 86 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا۔
پی ایس او کے 25 اپریل 2026 والے نرخ نامے سے موازنہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مٹی کا تیل 365 روپے 21 پیسے سے کم ہو کر 360 روپے 76 پیسے پر آ گیا، یعنی 4 روپے 45 پیسے فی لیٹر کمی ہوئی۔ دوسری طرف لائٹ ڈیزل 270 روپے 51 پیسے سے بڑھ کر 287 روپے 54 پیسے ہو گیا، یعنی 17 روپے 3 پیسے فی لیٹر اضافہ۔ یہی وہ اعداد و شمار ہیں جو اس خبر کی بنیاد بنتے ہیں۔
یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب ملک میں ایندھن کی قیمتیں پچھلے چند ہفتوں سے شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق 25 اپریل 2026 کو حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول 393 روپے 35 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر پر پہنچ گیا تھا۔
اس پس منظر میں تازہ نظرثانی کو صرف ایک محدود تکنیکی تبدیلی نہیں کہا جا سکتا۔ اعداد بتاتے ہیں کہ حکومت نے مختلف مصنوعات پر ایک جیسا فارمولا لاگو نہیں کیا۔ مٹی کے تیل میں کمی نسبتاً کم ہے، جبکہ لائٹ ڈیزل میں اضافہ خاصا نمایاں ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ درآمدی لاگت، مصنوعات کی نوعیت، فریٹ، اور قیمتوں کے تعین کے سرکاری فارمولے نے الگ الگ مصنوعات پر مختلف اثر ڈالا۔ دستیاب سرکاری نرخ ناموں میں بھی یہی فرق صاف نظر آتا ہے۔
عام صارف کے لیے اس فیصلے کے اثرات بھی مختلف ہوں گے۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں کمی سے کچھ گھرانوں کو معمولی ریلیف مل سکتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں یہ ایندھن اب بھی گھریلو استعمال میں آتا ہے۔ لیکن لائٹ ڈیزل مہنگا ہونے سے زرعی مشینری، چھوٹے صنعتی یونٹس اور متبادل توانائی ذرائع پر انحصار کرنے والے شعبوں کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ یوں مجموعی طور پر یہ فیصلہ ریلیف سے زیادہ لاگت کے دباؤ کی خبر معلوم ہوتا ہے۔ یہ نتیجہ سرکاری نرخوں کے باہمی موازنے سے اخذ ہوتا ہے۔
حالیہ ہفتوں کے واقعات یہ بھی بتاتے ہیں کہ پیٹرولیم قیمتوں کا موجودہ دور ابھی مستحکم نہیں ہوا۔ اپریل کے آغاز میں بھی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل میں غیر معمولی اضافہ کیا تھا، جسے بزنس ریکارڈر نے ریکارڈ سطح کی بڑھوتری قرار دیا۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں اوپر نیچے ہونے والی قیمتیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ عالمی منڈی اور مقامی قیمت سازی کا دباؤ بدستور برقرار ہے۔
