مچل اسٹارک نے آئی پی ایل 2026 میں اپنی واپسی صرف ایک رسمی قدم کے طور پر نہیں کی، بلکہ واضح پیغام کے ساتھ میدان میں اترے۔ دہلی کیپیٹلز کے لیے انجری کے بعد اپنے پہلے میچ میں آسٹریلوی فاسٹ بولر نے 40 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں اور راجستھان رائلز کے خلاف سات وکٹوں کی اہم جیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہ مقابلہ جے پور میں کھیلا گیا، جہاں دہلی نے 226 رنز کا بڑا ہدف 19.1 اوورز میں حاصل کر لیا۔
اسٹارک کی واپسی دہلی کے لیے خاص اس لیے بھی تھی کیونکہ وہ بگ بیش سیزن کے دوران کندھے اور کہنی کی انجری کا شکار ہو گئے تھے اور ٹورنامنٹ کے ابتدائی حصے سے باہر رہے۔ بعد ازاں فٹنس کلیئرنس ملنے کے بعد ہی وہ اسکواڈ میں واپس آئے۔ اسی پس منظر میں معروف کمنٹیٹر ایان بشپ نے ان کی واپسی کو دہلی کے بولنگ اٹیک کے لیے بڑی تقویت قرار دیا اور کہا کہ اسٹارک کے اندر وہ “فائر پاور” موجود ہے جو میچ کا رخ بدل سکتی ہے۔
میچ میں اسٹارک نے ابتدا ہی سے اثر چھوڑا۔ انہوں نے اپنے ابتدائی اسپیل میں یشسوی جیسوال کو آؤٹ کیا، پھر بعد میں اہم مواقع پر مزید وکٹیں لے کر راجستھان کی رفتار کو کسی حد تک قابو میں رکھا۔ اگرچہ راجستھان 225 رنز بنانے میں کامیاب رہی، لیکن دہلی کے خیمے میں یہ احساس واضح تھا کہ اسٹارک کی موجودگی نے بولنگ اٹیک کو وہ دھار دی جس کی انہیں کافی عرصے سے ضرورت تھی۔
دہلی کے کپتان اکشر پٹیل نے بھی میچ کے بعد اسٹارک کی کھل کر تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹارک “لیجنڈ” ہیں، اور تین ماہ کے وقفے کے بعد ایسے دباؤ والے میچ میں آ کر فوری اثر ڈالنا ہر بولر کے بس کی بات نہیں۔ اکشر کے تبصرے سے اندازہ ہوا کہ ٹیم صرف ان کی وکٹوں سے خوش نہیں بلکہ ان کی موجودگی سے پیدا ہونے والے اعتماد سے بھی فائدہ اٹھا رہی ہے۔
بیٹنگ میں دہلی کی کامیابی بھی کم متاثر کن نہیں تھی۔ کے ایل راہول نے 40 گیندوں پر 75 رنز بنائے جبکہ پاتھم نسانکا نے 33 گیندوں پر 62 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔ دونوں نے آغاز ہی میں ایسا مضبوط پلیٹ فارم فراہم کیا کہ 226 رنز کا ہدف بھی زیادہ دیر مشکل محسوس نہیں ہوا۔ دوسری جانب راجستھان کے لیے ریان پراگ نے 50 گیندوں پر 90 رنز بنائے، مگر ان کی اننگز بھی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکی۔
دہلی کیپیٹلز کے لیے یہ جیت صرف دو پوائنٹس تک محدود نہیں۔ ٹیم اب ٹورنامنٹ کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، اور ایسے وقت میں اسٹارک جیسے تجربہ کار اسٹرائیک بولر کی واپسی پورے کمبی نیشن کو بدل سکتی ہے۔ آئی پی ایل جیسے ٹورنامنٹ میں ایک مضبوط فاسٹ بولر صرف وکٹیں ہی نہیں دیتا، وہ مخالف ٹیم پر نفسیاتی دباؤ بھی ڈالتا ہے، اور اسٹارک نے واپسی کے پہلے ہی میچ میں یہی تاثر چھوڑا۔
مختصر یہ کہ اس رات صرف ایک بولر واپس نہیں آیا، بلکہ دہلی کو ایک نیا حوصلہ ملا۔ مچل اسٹارک نے بتا دیا کہ وہ ابھی ختم نہیں ہوئے، اور اگر ان کی فٹنس برقرار رہی تو دہلی کی مہم میں ان کا کردار بہت اہم ہو سکتا ہے۔
