احمد آباد: ممبئی انڈینز کے کپتان ہارڈک پانڈیا نے گجرات ٹائٹنز کے خلاف شاندار فتح کے بعد تلک ورما پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اتنے باصلاحیت بلے باز ہیں کہ انہیں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت ہی نہیں۔ ہارڈک کا یہ بیان ایک ایسے میچ کے بعد سامنے آیا جس میں تلک ورما نے دھواں دار سنچری اسکور کر کے ممبئی کو نہ صرف ایک بڑی جیت دلائی بلکہ ٹیم کی ڈگمگاتی مہم کو بھی سنبھال لیا۔
آئی پی ایل 2026 کے اس اہم مقابلے میں ممبئی انڈینز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 199 رنز بنائے۔ اننگز کی اصل جان تلک ورما تھے، جنہوں نے صرف 45 گیندوں پر ناقابلِ شکست 101 رنز کی برق رفتار اننگز کھیلی۔ ان کی یہ سنچری وقت کی ضرورت بھی تھی اور جواب بھی۔ جواب اس تنقید کا، جو حالیہ میچز میں ان کی خاموشی کے بعد سامنے آ رہی تھی۔
میچ کے آغاز میں تلک ورما زیادہ روانی میں دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ کچھ دیر تک ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اپنی اننگز بنانے کے مرحلے میں پھنس گئے ہوں۔ لیکن پھر منظر بدل گیا۔ ایک بار جب انہوں نے رفتار پکڑی تو گجرات کے بولرز کے پاس کوئی واضح جواب نہیں بچا۔ باؤنڈریز لگنے لگیں، گیند میدان کے چاروں طرف جانے لگی، اور وہی اننگز جو ابتدا میں سست محسوس ہو رہی تھی، چند اوورز میں میچ کا فیصلہ کن لمحہ بن گئی۔
ہارڈک پانڈیا کے تبصرے کی اہمیت بھی یہی ہے۔ یہ محض رسمی تعریف نہیں تھی۔ ممبئی انڈینز مسلسل چار شکستوں کے بعد شدید دباؤ میں تھی، ٹیم کے اہم کھلاڑیوں پر سوال اٹھ رہے تھے، اور تلک ورما بھی انہی ناموں میں شامل تھے جن سے زیادہ توقع کی جا رہی تھی۔ ایسے ماحول میں کپتان کا کھل کر کسی نوجوان بلے باز کی حمایت کرنا ایک واضح پیغام تھا کہ ٹیم اب بھی اس پر مکمل اعتماد رکھتی ہے۔
تلک کی اننگز نے صرف اسکور بورڈ ہی نہیں بدلا، بلکہ ممبئی انڈینز کے ڈریسنگ روم کا مزاج بھی بدل دیا۔ 199 رنز کا ہدف گجرات کے لیے ویسے ہی آسان نہیں تھا، مگر ممبئی کی بولنگ نے اسے ناممکن بنا دیا۔ گجرات ٹائٹنز کی پوری ٹیم 100 رنز پر آؤٹ ہو گئی اور ممبئی نے 99 رنز سے یکطرفہ کامیابی اپنے نام کی۔ یہ فرق صرف رنز کا نہیں تھا، اعتماد کا بھی تھا۔
اس کامیابی کے کئی مطلب ہیں۔ ایک، ممبئی کی مسلسل ناکامیوں کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ دوسرا، نیٹ رن ریٹ بہتر ہوا۔ تیسرا، اور شاید سب سے اہم، ٹیم کو ایک بار پھر یہ احساس ہوا کہ اگر اس کے کلیدی کھلاڑی فارم میں آ جائیں تو وہ اب بھی کسی بھی حریف کو یکطرفہ مقابلے میں شکست دے سکتی ہے۔
تلک ورما کے لیے بھی یہ رات خاص تھی۔ ایک نوجوان بلے باز کے کیریئر میں ایسے لمحات بہت معنی رکھتے ہیں۔ جب فارم ساتھ نہ دے، سوال اٹھیں، اور پھر اچانک ایک ایسی اننگز آ جائے جو سب کچھ بدل دے۔ احمد آباد میں یہی ہوا۔ انہوں نے صرف سنچری نہیں بنائی، اپنی موجودگی منوائی۔
ہارڈک پانڈیا کا بیان شاید اسی حقیقت کا خلاصہ تھا۔ کچھ کھلاڑی ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہر ناکامی کے بعد تکنیکی بحثوں اور غیر ضروری دباؤ میں الجھانے کے بجائے صرف یہ یاد دلانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اصل میں کتنے اچھے ہیں۔ تلک ورما نے گجرات کے خلاف یہی یاد دلایا خود کو بھی، اپنی ٹیم کو بھی، اور ناقدین کو بھی۔
