کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے ایک بار پھر شہریوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ حالیہ واقعات اور پولیس کارروائی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر اپنی وارداتوں کے طریقے بدل رہے ہیں۔ بہادرآباد میں ایک واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کو ڈبل کیبن گاڑی استعمال کرتے دیکھا گیا، جبکہ ایک الگ واقعے میں پی آئی بی کالونی میں موٹر سائیکل سوار ڈاکو ایک شہری کی موٹر سائیکل چھین کر فرار ہوگئے۔ پولیس کے مطابق آٹھ رکنی ایک ایسا گروہ بھی گرفتار کیا گیا ہے جو 100 سے زائد ڈکیتیوں میں ملوث رہا ہے۔
اس معاملے میں سب سے زیادہ توجہ صرف گرفتاری نے نہیں بلکہ واردات کے طریقہ کار نے حاصل کی ہے۔ کراچی میں اسٹریٹ کرائم کا تعلق عموماً موٹر سائیکل سوار ملزمان سے جوڑا جاتا رہا ہے، اس لیے ایک واردات میں پک اپ گاڑی کے استعمال نے شہریوں اور حکام دونوں کی توجہ کھینچی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض جرائم پیشہ گروہ شک سے بچنے، زیادہ افراد کے ساتھ حرکت کرنے یا نسبتاً بڑی واردات کرنے کے لیے اپنے طریقے بدل رہے ہیں۔ بہادرآباد اور پی آئی بی کالونی کے یہ واقعات یہ واضح کرتے ہیں کہ شہر میں جرائم کا خطرہ ایک ہی انداز میں نہیں رہ گیا بلکہ مسلسل بدل رہا ہے۔
پولیس نے ابھی تک اس آٹھ رکنی گروہ کے طریقہ واردات، نیٹ ورک یا اس سے جڑے تمام مقدمات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں رکھیں۔ تاہم یہ دعویٰ کہ ملزمان 100 سے زائد ڈکیتیوں میں ملوث تھے، اپنی جگہ نہایت اہم ہے۔ اس دعوے کے بعد یہ سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں کہ یہ گروہ کب سے سرگرم تھا، شہر کے کن کن علاقوں میں وارداتیں کرتا رہا، اور کیا اس کے بارے میں پہلے سے موصول ہونے والی شکایات نے تفتیش کاروں کو اس تک پہنچنے میں مدد دی۔
اس کیس کو شہر میں بڑھتے ہوئے جرائم کے وسیع تر پس منظر میں دیکھا جائے تو صورت حال مزید سنگین دکھائی دیتی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 کے دوران کراچی میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چوری اور چھینے جانے کے 3,624 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 157 کاریں اور 3,467 موٹر سائیکلیں شامل تھیں۔ اسی عرصے میں 1,265 موبائل فون بھی شہریوں سے چھینے یا چوری کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار محض وقتی بگاڑ کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ وہ اس حقیقت کو سامنے لاتے ہیں کہ شہر اب بھی بڑے پیمانے پر ہونے والے روزمرہ اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے میں مشکلات کا شکار ہے۔
شہریوں کے لیے سب سے زیادہ تشویش کی بات یہی ہے کہ یہ واقعات اب غیر معمولی نہیں رہے۔ ایسے جرائم روزمرہ زندگی کے فیصلوں پر اثر ڈالنے لگتے ہیں۔ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کون سی سڑک محفوظ ہے، رات کے وقت کہاں رکنا چاہیے، نقد رقم ساتھ رکھنی چاہیے یا نہیں، اور اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل کہاں کھڑی کی جائے۔ جب ملزمان روایتی موٹر سائیکل کے بجائے دوسری گاڑیاں استعمال کرتے دکھائی دیں تو خوف کی نوعیت بھی بدل جاتی ہے، کیونکہ پھر خطرہ کسی ایک مخصوص انداز تک محدود نہیں رہتا۔
حالیہ گرفتاری کو یقیناً ایک اہم پیش رفت قرار دیا جائے گا، اور اگر واقعی 100 سے زائد ڈکیتیوں میں ملوث گروہ پکڑا گیا ہے تو یہ ایک بڑی کارروائی سمجھی جائے گی۔ لیکن کراچی میں عوامی رائے صرف گرفتاریوں سے مطمئن نہیں ہوتی۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا آئندہ دنوں اور ہفتوں میں جرائم کی مجموعی شرح میں کمی آتی ہے یا نہیں۔ ایک گروہ کی گرفتاری اپنی جگہ اہم ہے، مگر بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اس شہر میں اسٹریٹ کرائم کے اس وسیع سلسلے کو واقعی سست یا ختم کیا جا سکے گا۔
