پاکستانی چاول برآمدکنندگان کے ایک وفد نے عمان کا دورہ کیا ہے، جہاں توجہ صرف دوطرفہ تجارت بڑھانے پر نہیں بلکہ عمان کو وسیع خلیجی منڈیوں تک رسائی کے ایک عملی راستے کے طور پر دیکھنے پر بھی ہے۔ یہ وفد رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے تحت گیا، جبکہ اس مہم کو ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اور وزارتِ تجارت کی حمایت حاصل ہے۔
اس دورے کی اہمیت محض عمانی مارکیٹ تک محدود نہیں۔ پاکستانی برآمدکنندگان اب خلیج میں ایسے مراکز تلاش کر رہے ہیں جہاں سے نہ صرف مقامی درآمدکنندگان تک رسائی آسان ہو بلکہ پورے جی سی سی خطے میں تقسیم، سپلائی اور کاروباری روابط کو بھی مضبوط کیا جا سکے۔ عمان اس حوالے سے خاص توجہ حاصل کر رہا ہے، کیونکہ اسے ایک ایسے تجارتی مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو خلیجی منڈیوں کے ساتھ ساتھ بعض افریقی راستوں تک بھی سہولت دے سکتا ہے۔
پاکستان کے چاول کے شعبے کے لیے یہ پیش رفت ایک بڑے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ حالیہ برسوں میں برآمدکنندگان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ روایتی خریداروں پر حد سے زیادہ انحصار خطرناک ہو سکتا ہے۔ اسی لیے نئی منڈیوں، بہتر نرخ دینے والے خریداروں اور مستحکم سپلائی چینز کی تلاش اب صنعت کی ترجیح بنتی جا رہی ہے۔ خلیجی ممالک میں پاکستانی چاول کو پہلے ہی اچھی پہچان حاصل ہے، اور یہی وجہ ہے کہ عمان جیسے ملک میں براہِ راست کاروباری روابط بڑھانے کی کوشش کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔
وفد کی ملاقاتوں میں توقع ہے کہ درآمدی کمپنیوں، ڈسٹری بیوٹرز اور کاروباری اداروں کے ساتھ سپلائی، معیار، پیکیجنگ اور مستقل خریداری کے امکانات پر بات ہوگی۔ پاکستانی برآمدکنندگان کی کوشش یہ ہے کہ صرف روایتی bulk sales تک محدود نہ رہا جائے بلکہ برانڈڈ، بہتر پیک شدہ اور اعلیٰ معیار کے چاول کو بھی ان بازاروں میں جگہ دلائی جائے جہاں صارفین معیار اور تسلسل دونوں کو اہمیت دیتے ہیں۔
عمان کے ساتھ یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں بڑھ رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری تعاون پر بھی بات چیت تیز ہوئی ہے۔ عمان میں ہونے والے حالیہ کاروباری فورمز میں زراعت، خوراک کے تحفظ، سرمایہ کاری اور تجارتی شراکت داری جیسے شعبوں پر خاص توجہ دی گئی۔ اس ماحول نے پاکستانی چاول برآمدکنندگان کے لیے موقع پیدا کیا ہے کہ وہ صرف ایک جنس بیچنے والے کے طور پر نہیں بلکہ ایک طویل المدتی تجارتی شراکت دار کے طور پر اپنی جگہ بنائیں۔
پاکستانی چاول کی عالمی منڈی میں مسابقت برقرار ہے، لیکن چیلنج بھی کم نہیں۔ بھارتی، تھائی اور ویتنامی سپلائرز کے ساتھ مقابلے میں قیمت، معیار، شپمنٹ کے وقت اور خریدار کے اعتماد جیسے عوامل فیصلہ کن بن جاتے ہیں۔ ایسے میں عمان کا دورہ ایک تجارتی مشن سے زیادہ، ایک حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان اپنی برآمدات کو زیادہ منظم، متنوع اور پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھا سکے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ اس دورے سے کیا عملی نتائج نکلتے ہیں۔ اگر ان ملاقاتوں کے نتیجے میں سپلائی معاہدے، تقسیم کار شراکت دار، گودام یا لاجسٹک انتظامات، یا مستقل درآمدی آرڈرز سامنے آتے ہیں تو اسے ایک اہم کامیابی سمجھا جائے گا۔ فی الحال اتنا واضح ہے کہ پاکستانی برآمدکنندگان عمان کو صرف ایک اور مارکیٹ نہیں بلکہ خلیجی تجارت میں مضبوط قدم جمانے کے ایک ممکنہ دروازے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
