ایران کی چھوٹی، تیز رفتار مسلح کشتیوں نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ تازہ رپورٹنگ کے مطابق ایرانی فورسز نے اسی ہفتے دو کنٹینر جہازوں پر قبضہ کیا، اور رائٹرز کے مطابق یہ واقعہ اس تاثر کو کمزور کرتا ہے کہ امریکی کارروائیوں کے بعد ایران کی بحری خطرناک صلاحیت بڑی حد تک ختم ہو چکی ہے۔
اصل تشویش صرف ان کشتیوں کی رفتار یا تعداد نہیں، بلکہ ان کا استعمال ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ میں بحری سکیورٹی کمپنی Diaplous کے حوالے سے کہا گیا کہ یہ خطرہ ایک “layered system” کا حصہ ہے، جس میں ساحل سے داغے جانے والے میزائل، ڈرونز، بارودی سرنگیں اور الیکٹرانک مداخلت بھی شامل ہیں۔ یعنی مسئلہ صرف براہِ راست حملہ نہیں، بلکہ ایسا ماحول بنانا بھی ہے جس میں کمرشل جہاز فیصلہ ہی نہ کر سکیں کہ آگے بڑھنا محفوظ ہے یا نہیں۔
یہ سب ایک ایسے راستے پر ہو رہا ہے جو عالمی توانائی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز سے یومیہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے، جو عالمی سمندری تیل تجارت کا ایک بڑا حصہ بنتا ہے۔ اس لیے یہاں معمولی رکاوٹ بھی فوراً تیل، فریٹ اور انشورنس مارکیٹوں میں جھٹکا پیدا کر سکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایران کی روایتی بحریہ کو پہنچنے والے نقصان کے باوجود اس کی fast-attack craft اب بھی ایک مؤثر غیر روایتی ہتھیار سمجھی جاتی ہیں۔ یہی کشتیاں سستی ہیں، تیزی سے حرکت کرتی ہیں، ٹکروں میں بکھر کر آتی ہیں اور بغیر بھاری جنگی تصادم کے بھی تجارتی جہازوں کو روکنے، گھیرنے یا ان پر سوار ہونے کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ جنگ سے پہلے ایران کے پاس ایسی سینکڑوں بلکہ ممکنہ طور پر ہزاروں کشتیاں تھیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد اب بھی خطرہ بنی ہوئی ہے۔
کمرشل شپنگ کے لیے مسئلہ بہت سیدھا ہے: تجارتی جہاز جنگی جہاز نہیں ہوتے۔ اسی لیے امبری کے ایک عہدیدار نے رائٹرز سے کہا کہ سویلین جہاز ایرانی مسلح اہلکاروں کو اپنے عرشے پر چڑھنے سے نہیں روک سکتے، اور ایک عام ضبطی کارروائی میں درجن بھر کشتیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ یہی “swarm” حکمتِ عملی ہے — ایک ہی وقت میں کئی سمتوں سے دباؤ ڈالنا۔
سرکاری بحری انتباہات بھی یہی بتا رہے ہیں کہ خطرہ صرف ایک دو واقعات تک محدود نہیں۔ UKMTO کے مطابق 28 فروری 2026 سے 20 اپریل 2026 تک عرب خلیج، آبنائے ہرمز اور خلیجِ عمان میں جہازوں سے متعلق 33 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 20 حملے اور 13 مشکوک سرگرمیاں شامل تھیں۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ سمندری خطرہ مسلسل اور منظم نوعیت اختیار کر چکا ہے۔
اسی طرح JMIC کی ایڈوائزری میں آبنائے ہرمز کے لیے سمندری خطرے کی سطح CRITICAL رکھی گئی ہے۔ نوٹ میں واضح کیا گیا کہ جاری فوجی کارروائیوں کے باعث جہاز مالکان اور ملاحوں کو بڑھتی ہوئی بحری موجودگی، سخت حفاظتی اقدامات اور غیر معمولی آپریشنل رکاوٹوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔
سیاسی سطح پر بھی لہجہ سخت ہو گیا ہے۔ AP کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو حکم دیا ہے کہ اگر ایرانی کشتیاں آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھاتی دکھائی دیں تو انہیں “shoot and kill” کیا جائے۔ اسی رپورٹ میں کہا گیا کہ 28 فروری 2026 کے بعد سے 30 سے زیادہ جہاز حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحری رسک اب محض نظریاتی خطرہ نہیں رہا۔
اس پوری صورتحال کا خلاصہ یہ ہے کہ ایران کا بحری خطرہ شاید پہلے جیسا روایتی نہ رہا ہو، مگر وہ ختم بھی نہیں ہوا۔ اب خطرہ زیادہ بے قاعدہ، زیادہ منتشر اور بعض حوالوں سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے، خاص طور پر تجارتی جہازوں کے لیے۔ آبنائے ہرمز جیسے تنگ مگر انتہائی اہم راستے میں اتنی غیر یقینی بھی کافی ہوتی ہے کہ انشورنس مہنگی ہو جائے، جہاز رک جائیں اور عالمی منڈیاں بے چین رہیں۔
