اسلام آباد: پاکستان کا مجموعی قرض 100 کھرب روپے سے تجاوز کرگیا ہے، جس نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ رقم یقیناً بہت بڑی ہے، تاہم صرف مجموعی قرض کا حجم یہ طے نہیں کرتا کہ ملک کی قرضوں کی صورتحال خطرناک ہورہی ہے یا بہتر۔
اہم سوال یہ ہے کہ قرض کس رفتار سے بڑھ رہا ہے، معیشت کے حجم کے مقابلے میں اس کا تناسب کیا ہے، قرض کا کتنا حصہ غیر ملکی کرنسی میں ہے، حکومت کی آمدنی کا کتنا حصہ سود کی ادائیگی میں خرچ ہورہا ہے، قرض کی اوسط مدت کتنی ہے، مستقبل قریب میں کتنا قرض دوبارہ حاصل کرنا ہوگا اور کیا ملک کے پاس بیرونی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے کافی زرمبادلہ موجود ہے۔
ان پیمانوں سے دیکھا جائے تو پاکستان کی موجودہ قرضوں کی صورتحال 100 کھرب روپے کی سرخی سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ سب سے اہم چیز قرض کی سمت اور رفتار ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 میں قرضوں میں اضافہ تقریباً 7.7 فیصد رہا، جو مبینہ طور پر دو دہائیوں میں سب سے کم شرح ہے۔ گزشتہ برسوں میں قرضوں کے اضافے کی اوسط شرح تقریباً 16 فیصد رہی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرض کے تیز رفتار اضافے کو کسی حد تک قابو کیا گیا ہے۔
ایک اور اہم پیمانہ قرض اور مجموعی قومی پیداوار کا تناسب ہے۔ پاکستان میں یہ تناسب تقریباً 68 فیصد تک آگیا ہے، جبکہ پانچ سال قبل یہ غیر معمولی طور پر بلند سطح یعنی تقریباً 88 فیصد تھا۔
یہ ایک نمایاں بہتری ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگرچہ روپے میں قرض کی مجموعی رقم بڑھ سکتی ہے، لیکن معیشت کے حجم کے مقابلے میں قرض کا بوجھ کم ہوسکتا ہے۔
قرضوں کی ادائیگی کی صورتحال میں بھی بہتری آئی ہے۔ سالانہ سودی اخراجات مبینہ طور پر 8.9 کھرب روپے سے کم ہوکر 6.9 کھرب روپے رہ گئے ہیں، جبکہ حکومت کی مجموعی آمدنی میں سود کی ادائیگی کا حصہ مالی سال 2024 کے تقریباً 61 فیصد سے کم ہوکر مالی سال 2026 میں 35 فیصد رہ گیا ہے۔
سادہ الفاظ میں، جہاں پہلے ہر 100 روپے حکومتی آمدنی میں سے تقریباً 61 روپے سود کی ادائیگی پر خرچ ہوتے تھے، اب یہ حصہ تقریباً 35 روپے رہ گیا ہے۔
پاکستان کے قرضوں کا جائزہ زرمبادلہ کے ذخائر سے الگ کرکے بھی نہیں لیا جاسکتا۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر ساڑھے تین سال قبل تقریباً 3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 18.5 ارب ڈالر ہوگئے ہیں، جس کے باعث درآمدات کے لیے دستیاب مالی سہارا تقریباً 2.4 ہفتوں سے بڑھ کر تین ماہ کے قریب ہوگیا ہے۔
اگرچہ یہ سطح اب بھی مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں، تاہم زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ بیرونی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کی پاکستان کی صلاحیت کو مضبوط کرتا ہے۔
قرض کی ساخت اور مدت بھی اس کے حجم جتنی اہم ہیں۔ پاکستان نے مبینہ طور پر تقریباً 4.72 کھرب روپے کا قرض مدت پوری ہونے سے پہلے ادا کیا ہے۔ اسی دوران ملکی قرض کی اوسط مدت تقریباً 2.8 سال سے بڑھ کر 3.8 سال سے زیادہ ہوگئی ہے۔
قرض کی مدت میں اضافہ اس خطرے کو کم کرتا ہے کہ حکومت کو ہر سال بہت بڑی مقدار میں قرض دوبارہ حاصل یا ادا کرنا پڑے۔
بیرونی قرض تاریخی طور پر پاکستان کی بڑی کمزوریوں میں شامل رہا ہے کیونکہ اس کی ادائیگی غیر ملکی کرنسی میں کرنا ہوتی ہے۔ تاہم اس شعبے میں بھی بہتری آئی ہے اور مجموعی سرکاری قرض میں بیرونی قرض کا حصہ چھ سال قبل تقریباً 38 فیصد سے کم ہوکر 31 فیصد رہ گیا ہے۔
اس کے باوجود خطرات موجود ہیں، کیونکہ بیرونی قرض کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ دوطرفہ قرض دہندگان سے لیا گیا ہے، جس کے لیے بار بار تجدید یا دوبارہ مالی انتظام کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں کا اعتماد بھی ایک اہم اشاریہ ہے۔ پاکستان چار سال کے وقفے کے بعد دوبارہ عالمی سرمایہ جاتی منڈیوں میں واپس آیا ہے اور یورو بانڈ اور پانڈا بانڈ کے ذریعے مالی وسائل حاصل کیے ہیں۔
کریڈٹ ریٹنگ کے اداروں نے بھی پاکستان کی درجہ بندی بہتر کی ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے حال ہی میں پاکستان کی درجہ بندی بی تک بڑھائی ہے، جو تقریباً ایک دہائی میں بلند ترین سطح ہے۔
تاہم پاکستان اب بھی سرمایہ کاری کے درجے سے نیچے ہے اور بہتر مالی شرائط پر عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے مزید پیش رفت درکار ہوگی۔
اب اصل چیلنج یہ ہے کہ یہ بہتری عارضی ثابت نہ ہو۔ پاکستان کو ایسی صورتحال تک پہنچنا ہوگا جہاں قرض ترقیاتی اخراجات کو محدود نہ کرے، سود کی ادائیگیاں تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے لیے درکار وسائل کو کم نہ کریں، اور معاشی ترقی خود ماضی کے قرضوں کے بوجھ کو بتدریج کم کرتی جائے۔
100 کھرب روپے کا اعداد و شمار یقیناً ایک بڑی سرخی بن سکتا ہے، لیکن پاکستان کے قرض کا حقیقی جائزہ صرف اس کی مجموعی رقم سے نہیں بلکہ اس قرض کو پائیدار بنیادوں پر اٹھانے اور ادا کرنے کی ملک کی صلاحیت سے لیا جانا چاہیے۔
کئی برسوں میں پہلی مرتبہ ایسے آثار دکھائی دے رہے ہیں کہ پاکستان کی قرضوں سے متعلق سمت میں بہتری آنا شروع ہوگئی ہے۔
