لاہور کے علاقے میں پیش آنے والے ہینا جاوید قتل کیس کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔ میڈیکل بورڈ کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں مقتولہ کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات اور گہرے زخموں کی تصدیق کی گئی ہے، جس نے اس افسوسناک واقعے کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گردن اور سر کے پچھلے حصے پر ضرب کے نشانات نمایاں ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان زخموں کی نوعیت گہری ہے، جو بظاہر کسی بھاری اور کند آلے کے استعمال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ہڈیوں کے فریکچر اور جلد پر موجود نیل کے نشانات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ موت سے قبل مقتولہ نے خود کو بچانے کی کوشش کی ہوگی۔
پولیس حکام تفتیش کے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ ملنے کے بعد اب شواہد کو جوڑنا آسان ہو گیا ہے۔ "ہم فرانزک رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ڈی این اے کے نمونوں سے حتمی ملزمان کا سراغ لگایا جا سکے،” انہوں نے میڈیا کو بتایا۔
مقتولہ کے لواحقین انصاف کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ہینا جاوید کو منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا گیا اور اسے گھر سے دور ایک ویران مقام پر پھینکا گیا۔ خاندان کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے سخت ترین سزا دی جائے۔
دوسری جانب، پولیس نے جائے وقوعہ کے آس پاس لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کر لی ہے۔ ان ویڈیوز میں ایک مشکوک گاڑی کو رات کے اوقات میں گزرتے دیکھا گیا ہے۔ تفتیشی ٹیم اب اس گاڑی کے نمبر پلیٹ اور اس میں سوار افراد کی شناخت کرنے میں مصروف ہے۔
اب تک کی تحقیقات میں کوئی بھی پہلو نظر انداز نہیں کیا جا رہا۔ کیا یہ ذاتی دشمنی تھی یا کوئی اور محرک؟ یہ سوال اب بھی تفتیشی ٹیم کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے، لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہینا جاوید کی موت ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک سفاکانہ قتل تھا۔
