کراچی: سندھ حکومت نے صوبے کے پبلک ٹرانسپورٹ نظام کو مزید وسعت دینے کے لیے 500 نئی الیکٹرک بسیں خریدنے کی منظوری دے دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ بسیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت لائی جائیں گی اور خاص طور پر کراچی کے ان علاقوں میں چلائی جائیں گی جہاں شہری آج بھی محدود، غیر یقینی اور مہنگی سفری سہولتوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
سندھ کے سینئر وزیر اور وزیرِ ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے سندھ اسمبلی میں بتایا کہ حکومت نے الیکٹرک بسوں کی نئی کھیپ شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کا مقصد شہریوں کو بہتر، ماحول دوست اور نسبتاً منظم سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب اسمبلی اجلاس کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کا معاملہ اٹھایا گیا۔ خاص طور پر منگھوپیر کے شہریوں کو درپیش مشکلات کا ذکر کیا گیا، جہاں روزانہ سفر کرنے والے افراد کو مناسب بس سروس نہ ہونے کے باعث طویل انتظار، اضافی کرایوں اور بدل بدل کر سواری لینے جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔
حکومتی تفصیلات کے مطابق نئی ای وی بسیں کراچی کے کئی اہم اور گنجان آباد روٹس پر چلائی جائیں گی۔ ان میں اتحاد ٹاؤن، بنارس کالونی، لیاقت آباد، جہانگیر روڈ اور کینٹ اسٹیشن سے منسلک راستے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اورنگی غازی آباد، اقبال مارکیٹ، ولیکا، ناظم آباد نمبر 2، عائشہ منزل اور ظہور چوک کے لیے بھی روٹس زیرِ غور ہیں۔
کراچی کے لیے یہ منصوبہ اس لیے بھی اہم ہے کہ شہر میں برسوں سے پبلک ٹرانسپورٹ کا بحران برقرار ہے۔ لاکھوں شہری روزانہ نجی بسوں، چنگچی رکشوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور آن لائن رائیڈ سروسز پر انحصار کرتے ہیں۔ خاص طور پر شہر کے مغربی اور شمالی علاقوں میں رہنے والے کم آمدنی طبقے کے لیے ایک باقاعدہ بس سروس محض سہولت نہیں بلکہ روزگار، تعلیم اور روزمرہ زندگی تک رسائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ نیٹ ورک صرف کراچی تک محدود نہیں رکھا جا رہا۔ حالیہ عرصے میں ٹنڈو الہ یار، خیرپور اور روہڑی سمیت دیگر شہروں میں بھی بس سروسز شروع یا توسیع کی گئی ہیں، جبکہ کراچی میں گلشنِ معمار سے ٹاور جیسے روٹس پر بھی سروس شامل کی گئی ہے۔
ماحولیات کے حوالے سے بھی الیکٹرک بسوں کو ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ کراچی جیسے آلودہ اور ٹریفک سے بھرے شہر میں ای وی بسیں دھوئیں اور ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ مگر اصل امتحان بسوں کی خریداری نہیں، بلکہ ان کے مستقل آپریشن کا ہوگا۔ چارجنگ اسٹیشنز، ڈپو، مرمت کا نظام، ٹکٹنگ، ڈرائیورز کی تربیت اور روٹس کی پابندی — یہ سب چیزیں منصوبے کی کامیابی میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔
شہریوں کی توقعات بڑی ہیں، مگر شکایت بھی پرانی ہے۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ منصوبوں کے اعلانات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، لیکن اکثر عوام کو بسوں سے زیادہ وعدے نظر آئے۔ اس بار فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ بسیں واقعی وقت پر چلتی ہیں یا نہیں، اور کیا منگھوپیر، اورنگی، بنارس، ناظم آباد اور لیاقت آباد جیسے علاقوں کے عام مسافروں کو روزانہ کی بنیاد پر حقیقی ریلیف ملتا ہے یا نہیں۔
