اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم ڈویژن کے سیکریٹری حامد یعقوب شیخ کو واٹر ریسورسز ڈویژن کے سیکریٹری کا اضافی چارج دے دیا ہے، جبکہ واٹر ریسورسز کے سیکریٹری سید علی مرتضیٰ کو عہدے سے ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشنز کے مطابق سید علی مرتضیٰ، جو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22 کے افسر ہیں، کو آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی یعنی او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ حامد یعقوب شیخ کو واٹر ریسورسز ڈویژن کا اضافی چارج سونپا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حامد یعقوب شیخ یہ اضافی ذمہ داری تین ماہ تک یا مستقل سیکریٹری کی تعیناتی تک نبھائیں گے، جو بھی پہلے ہو۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ انتظام واٹر ریسورسز ڈویژن کے انتظامی امور میں تسلسل برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
حامد یعقوب شیخ اس وقت پیٹرولیم ڈویژن کے سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وفاقی حکومت نے مارچ 2026 میں انہیں سیکریٹری نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن سے تبدیل کر کے سیکریٹری پیٹرولیم ڈویژن تعینات کیا تھا۔ وہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22 کے سینئر افسر ہیں۔
یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واٹر ریسورسز ڈویژن کو کئی اہم معاملات کا سامنا ہے۔ ملک میں پانی کی تقسیم، ڈیم منصوبے، صوبوں کے درمیان آبی امور اور انڈس واٹر ٹریٹی جیسے حساس معاملات اسی ڈویژن کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ اس لیے سیکریٹری کی تبدیلی صرف ایک معمول کی انتظامی پوسٹنگ نہیں سمجھی جا رہی، بلکہ اسے ایک اہم بیوروکریٹک پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سید علی مرتضیٰ اس سے قبل واٹر ریسورسز ڈویژن کے سیکریٹری کے طور پر کام کر رہے تھے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی سینئر افسران کی فہرست میں بھی ان کا نام واٹر ریسورسز ڈویژن کے سیکریٹری کے طور پر درج تھا۔
وفاقی حکومت نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تفصیلی وضاحت جاری نہیں کی کہ سید علی مرتضیٰ کو کیوں ہٹایا گیا۔ تاہم بیوروکریسی میں ایسے تبادلے عموماً انتظامی ضرورت، کارکردگی کے جائزے یا پالیسی ترجیحات میں تبدیلی کے تحت کیے جاتے ہیں۔
حامد یعقوب شیخ کے لیے یہ اضافی ذمہ داری آسان نہیں ہوگی۔ ایک طرف پیٹرولیم ڈویژن توانائی، گیس، تیل اور شعبہ توانائی کے دباؤ سے جڑا ہوا ہے، دوسری طرف واٹر ریسورسز ڈویژن ملک کے آبی مفادات اور بین الصوبائی رابطہ کاری سے متعلق حساس فائلیں دیکھتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت مستقل سیکریٹری کی تقرری جلد کرتی ہے یا یہ عبوری انتظام کچھ عرصہ مزید چلتا ہے۔
