اسلام آباد: مسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ کی پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ کو فروخت کی منظوری دے دی ہے اور قرار دیا ہے کہ اس سودے سے مارکیٹ میں مسابقت کے حوالے سے کوئی سنگین مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ کمیشن نے اس معاملے کا جائزہ مسابقتی قانون کے سیکشن 11 کے تحت پہلے مرحلے میں لیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ یہ لین دین مقابلے کے ماحول کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔
یہ منظوری حکومت کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل کئی برس سے مالی مشکلات، سیاسی بحث اور انتظامی پیچیدگیوں کا شکار رہا ہے۔ سی سی پی کی منظوری کے بعد اب نجکاری کے عمل میں ایک اور بڑی رکاوٹ دور ہوگئی ہے، اور توجہ اگلے مرحلے یعنی مالیاتی تکمیل اور انتظامی منتقلی پر مرکوز ہو گئی ہے۔
پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ ایک خصوصی مقصد کے لیے قائم کی گئی کمپنی ہے، جسے عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں بننے والے کنسورشیم نے تشکیل دیا۔ رپورٹوں کے مطابق اس کنسورشیم میں فاطمہ فرٹیلائزر، لیک سٹی ہولڈنگز، سٹی اسکولز اور اے کے ڈی گروپ بھی شامل ہیں۔ اسی گروپ نے دسمبر 2025 میں ہونے والی نیلامی میں پی آئی اے کے 75 فیصد حصص 135 ارب روپے کی بولی دے کر حاصل کیے تھے، جو حکومت کی مقررہ کم از کم قیمت سے زیادہ تھی۔
مسابقتی جائزے کے دوران کمیشن نے یہ دیکھا کہ خریدار گروپ کا ہوابازی کے شعبے میں ایسا براہِ راست اور غالب کردار موجود نہیں جو اس سودے کے بعد مسابقت پر منفی اثر ڈالے۔ جائزے میں اندرونِ ملک اور بین الاقوامی مسافر پروازیں، کارگو خدمات، ڈاک کی ترسیل اور فنی فضائی خدمات سمیت مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا۔ کمیشن نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پی آئی اے پہلے ہی ایک ایسی مارکیٹ میں کام کر رہی ہے جہاں اسے ملکی اور غیر ملکی فضائی کمپنیوں سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو حکومت اس نجکاری کو صرف ایک کاروباری معاہدہ نہیں بلکہ معاشی اصلاحات کے بڑے ایجنڈے کا حصہ قرار دے رہی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹنگ کے مطابق پی آئی اے کی فروخت کو پاکستان کی ان کوششوں سے جوڑا جا رہا ہے جن کا مقصد مالی دباؤ کم کرنا، ریاستی اداروں کے بوجھ میں کمی لانا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہے۔
تاہم اصل امتحان اب شروع ہوگا۔ ضابطہ جاتی منظوری اپنی جگہ اہم ہے، مگر صرف کاغذی پیش رفت سے ایک خسارے میں چلنے والی فضائی کمپنی بحال نہیں ہوتی۔ نئے مالکان کو انتظامی ڈھانچے، طیاروں کے بیڑے کی منصوبہ بندی، پروازی نیٹ ورک، اخراجات میں کمی اور خدمات کے معیار میں بہتری جیسے معاملات پر فوری اور مؤثر فیصلے کرنا ہوں گے۔ پارلیمانی بریفنگز میں حکام پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ مالیاتی تکمیل اپریل 2026 کے آخر تک متوقع تھی، جبکہ کنسورشیم نئی انتظامیہ اور چیف ایگزیکٹو کے تقرر پر بھی کام کر رہا تھا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ معاہدہ واقعی پی آئی اے کی سمت بدلنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔ نجکاری کا اعلان یقیناً ایک بڑی پیش رفت ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت سمجھی جائے گی جب قومی فضائی کمپنی انتظامی استحکام، مالی بہتری اور بہتر خدمات کے ساتھ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہوتی دکھائی دے۔
۔
