MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
internationalIran

بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی کی تجاویز

Last updated: جون 10, 2026 11:52 صبح
Siraj Ahmed
Share
بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی کی تجاویز
بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی کی تجاویز
SHARE

اسلام آباد: وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف کے متعدد اقدامات پر غور کر رہی ہے، جس سے ملک بھر کے لاکھوں ملازمین کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ بجٹ سے متعلق جاری مشاورت اور تجاویز کے مطابق حکومت متوسط آمدن رکھنے والے افراد پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ مالیاتی نظم و ضبط بھی برقرار رکھا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرحوں میں کمی، ٹیکس سلیبز میں ردوبدل اور قابلِ ٹیکس آمدن کی حد میں اضافے جیسے اقدامات زیر غور ہیں۔ بعض تجاویز میں ٹیکس فری آمدن کی حد بڑھانے اور ماہانہ تین لاکھ روپے تک کمانے والے ملازمین کو خصوصی ریلیف دینے کی سفارش بھی شامل ہے۔

یہ تجاویز مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی اور تنخواہ دار طبقے پر بڑھتے ہوئے ٹیکس بوجھ کے تناظر میں سامنے آئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں کمی سے ملازمین کی قابلِ خرچ آمدن میں اضافہ ہوگا اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے لیے تقریباً 50 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کو بھی بجٹ منصوبہ بندی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ تاہم کسی بھی ٹیکس رعایت کو مالیاتی اہداف اور جاری اقتصادی پروگراموں کے مطابق حتمی شکل دی جائے گی۔

ٹیکس ریلیف سے متعلق حتمی فیصلوں اور نئی شرحوں کا اعلان وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے موقع پر متوقع ہے، جس کے بعد نئے مالی سال میں ان کا اطلاق ہوگا۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی کی تجاویز بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی کی تجاویز
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی کی تجاویز
بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی کی تجاویز
کاروبار اور تجارت
جون 10, 2026
جوہانسبرگ میں فائرنگ کے واقعے میں 12 افراد ہلاک، پولیس
جوہانسبرگ میں فائرنگ کے واقعے میں 12 افراد ہلاک، پولیس
international
جون 10, 2026
ہیگ جیک مین رڈلے اسکاٹ کی فلم ’ٹریژر آئی لینڈ‘ میں لانگ جان سلور کا کردار نبھائیں گے
ہیگ جیک مین رڈلے اسکاٹ کی فلم ’ٹریژر آئی لینڈ‘ میں لانگ جان سلور کا کردار نبھائیں گے
انٹرٹینمنٹ تازہ ترین
جون 10, 2026
سمندری ڈاکوؤں کی قید میں پاکستانی ملاح: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی صومالی حکومت سے فوری بازیابی کی اپیل
international تازہ ترین
جون 10, 2026
اورنگی ٹاؤن: شادی کے چند روز بعد نوجوان دولہا پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
بریکنگ نیوز
جون 10, 2026
صدر آصف علی زرداری نے 10 جون کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کر لیے
تازہ ترین سیاست
جون 10, 2026

You Might Also Like

international

بحرین: سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر متعدد افراد کی شہریت منسوخ

By Ayan Ahmed
internationalWorld

جاپان کا "نانکائی ٹرف” اور بڑے زلزلے کا خوف: کیا ملک تیار ہے؟

By Ayan Ahmed
**میکرون کا لبنان کو اسرائیل سے مذاکرات کی تیاری میں مدد دینے کا اعلان** پیرس — فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے کہا ہے کہ فرانس لبنان کو اسرائیل کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی تیاری میں مدد دے گا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحدی کشیدگی کے بعد جنگ بندی نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور سفارتی کوششیں اسے ٹوٹنے سے بچانے کی طرف مرکوز ہیں۔ یہ بات میکرون نے 21 اپریل 2026 کو پیرس میں لبنانی وزیراعظم نواف سلام سے ملاقات کے بعد کہی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ جنگ بندی کو مضبوط کرنے اور جنوبی لبنان کی صورت حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔ میکرون کا مؤقف یہ تھا کہ لبنان میں استحکام صرف فوجی دباؤ سے نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی پیش رفت سے ممکن ہے۔ دوسری طرف نواف سلام نے واضح کیا کہ بیروت بات چیت کے راستے کا مخالف نہیں، تاہم لبنان کی خودمختاری، اسرائیلی افواج کے انخلا اور جنگ بندی کی مکمل پاسداری بنیادی شرطیں رہیں گی۔ یوں ابتدا ہی سے یہ واضح ہے کہ مذاکرات کی راہ کھلی تو ہے، مگر آسان نہیں۔ اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں براہِ راست بات چیت ہوئی تھی، جسے کئی دہائیوں بعد ایک غیرمعمولی سفارتی قدم قرار دیا گیا۔ اگرچہ ان مذاکرات سے کسی فوری پیش رفت کا اعلان نہیں ہوا، لیکن دونوں فریقوں کا ایک ہی میز پر آنا خود ایک اہم تبدیلی سمجھا جا رہا ہے۔ فرانس اس نئے سفارتی خلا میں اپنے لیے ایک کردار تلاش کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پیرس اس وقت باضابطہ مذاکراتی فریق نہیں، لیکن میکرون نے لبنان کو تکنیکی اور سفارتی سطح پر تیار کرنے کی پیشکش کی ہے۔ فرانس کے لبنان کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں، اور اسی بنیاد پر وہ خود کو ایک مددگار قوت کے طور پر پیش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب علاقائی طاقتیں اور مغربی ممالک جنوبی لبنان کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم زمینی حقیقت اب بھی پریشان کن ہے۔ جنگ بندی کو مستحکم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حالیہ مہینوں میں سرحدی جھڑپوں، راکٹ حملوں اور جوابی کارروائیوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ کسی بھی وقت حالات دوبارہ بگڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے موجودہ سفارتی رابطوں کو امن معاہدے کی کوشش کے بجائے فوری کشیدگی کم کرنے کی مہم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ فرانس کے لیے یہ معاملہ صرف سفارت کاری تک محدود نہیں رہا۔ جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن سے وابستہ ایک فرانسیسی اہلکار کی حالیہ ہلاکت نے پیرس کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ فرانس اور اقوام متحدہ کے مشن نے اس واقعے کی ذمہ داری حزب اللہ پر عائد کی، اگرچہ حزب اللہ نے اس الزام کو مسترد کیا۔ اس پس منظر میں میکرون نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو فرانس مستقبل کے کسی امن انتظام میں مدد دینے پر غور کر سکتا ہے۔ لبنانی وزیراعظم نواف سلام کے دورۂ پیرس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ لبنان کو ممکنہ مذاکرات سے پہلے زیادہ مضبوط سیاسی اور سفارتی حمایت حاصل ہو۔ بیروت چاہتا ہے کہ کوئی بھی بات چیت ایسی نہ ہو جس میں صرف طاقت کا توازن فیصلہ کن بن جائے، بلکہ لبنان کے مفادات اور سرحدی خودمختاری کو بھی واضح تحفظ حاصل ہو۔ ادھر اسرائیل نے ابھی تک فرانس کو مرکزی ثالث کے طور پر قبول کرنے کے آثار نہیں دیے۔ بعض رپورٹس کے مطابق موجودہ رابطہ کاری میں اسرائیل زیادہ تر امریکی کردار کو ترجیح دے رہا ہے، جس کی وجہ سے فرانس کا حصہ فی الحال معاونت تک محدود دکھائی دیتا ہے، براہِ راست ثالثی تک نہیں۔ اس سارے منظرنامے میں ایک بات واضح ہے: سفارتی دروازہ پوری طرح بند نہیں، مگر خطرہ بھی ٹلا نہیں۔ میکرون کی پیشکش دراصل لبنان کو ایک ایسے مرحلے کے لیے تیار کرنے کی کوشش ہے جہاں معمولی پیش رفت بھی بڑی اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ سفارتی کوششیں ایک پائیدار فریم ورک میں ڈھلتی ہیں یا پھر سرحدی کشیدگی دوبارہ پورے عمل کو پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ میں اسے چاہیں تو اب **اخباری انداز میں مزید polished اردو ورژن**، **مختصر ویب اسٹوری فارمیٹ**، یا **ہیڈ لائن + سب ہیڈ + لیڈ** کی شکل میں بھی دے سکتا ہوں۔
international

میکرون کا لبنان کو اسرائیل سے مذاکرات کی تیاری میں مدد دینے کا اعلان

By Mabruka Khan
بیروت پر حملے کی دھمکی سے اسرائیل کی ممکنہ پسپائی، کشیدگی میں کمی کی امید
international

بیروت پر حملے کی دھمکی سے اسرائیل کی ممکنہ پسپائی، کشیدگی میں کمی کی امید

By Siraj Ahmed
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?