میکرون کا لبنان کو اسرائیل سے مذاکرات کی تیاری میں مدد دینے کا اعلان
پیرس — فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے کہا ہے کہ فرانس لبنان کو اسرائیل کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی تیاری میں مدد دے گا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحدی کشیدگی کے بعد جنگ بندی نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور سفارتی کوششیں اسے ٹوٹنے سے بچانے کی طرف مرکوز ہیں۔
یہ بات میکرون نے 21 اپریل 2026 کو پیرس میں لبنانی وزیراعظم نواف سلام سے ملاقات کے بعد کہی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ جنگ بندی کو مضبوط کرنے اور جنوبی لبنان کی صورت حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔
میکرون کا مؤقف یہ تھا کہ لبنان میں استحکام صرف فوجی دباؤ سے نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی پیش رفت سے ممکن ہے۔ دوسری طرف نواف سلام نے واضح کیا کہ بیروت بات چیت کے راستے کا مخالف نہیں، تاہم لبنان کی خودمختاری، اسرائیلی افواج کے انخلا اور جنگ بندی کی مکمل پاسداری بنیادی شرطیں رہیں گی۔ یوں ابتدا ہی سے یہ واضح ہے کہ مذاکرات کی راہ کھلی تو ہے، مگر آسان نہیں۔
اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں براہِ راست بات چیت ہوئی تھی، جسے کئی دہائیوں بعد ایک غیرمعمولی سفارتی قدم قرار دیا گیا۔ اگرچہ ان مذاکرات سے کسی فوری پیش رفت کا اعلان نہیں ہوا، لیکن دونوں فریقوں کا ایک ہی میز پر آنا خود ایک اہم تبدیلی سمجھا جا رہا ہے۔
فرانس اس نئے سفارتی خلا میں اپنے لیے ایک کردار تلاش کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پیرس اس وقت باضابطہ مذاکراتی فریق نہیں، لیکن میکرون نے لبنان کو تکنیکی اور سفارتی سطح پر تیار کرنے کی پیشکش کی ہے۔ فرانس کے لبنان کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں، اور اسی بنیاد پر وہ خود کو ایک مددگار قوت کے طور پر پیش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب علاقائی طاقتیں اور مغربی ممالک جنوبی لبنان کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
تاہم زمینی حقیقت اب بھی پریشان کن ہے۔ جنگ بندی کو مستحکم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حالیہ مہینوں میں سرحدی جھڑپوں، راکٹ حملوں اور جوابی کارروائیوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ کسی بھی وقت حالات دوبارہ بگڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے موجودہ سفارتی رابطوں کو امن معاہدے کی کوشش کے بجائے فوری کشیدگی کم کرنے کی مہم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
فرانس کے لیے یہ معاملہ صرف سفارت کاری تک محدود نہیں رہا۔ جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن سے وابستہ ایک فرانسیسی اہلکار کی حالیہ ہلاکت نے پیرس کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ فرانس اور اقوام متحدہ کے مشن نے اس واقعے کی ذمہ داری حزب اللہ پر عائد کی، اگرچہ حزب اللہ نے اس الزام کو مسترد کیا۔ اس پس منظر میں میکرون نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو فرانس مستقبل کے کسی امن انتظام میں مدد دینے پر غور کر سکتا ہے۔
لبنانی وزیراعظم نواف سلام کے دورۂ پیرس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ لبنان کو ممکنہ مذاکرات سے پہلے زیادہ مضبوط سیاسی اور سفارتی حمایت حاصل ہو۔ بیروت چاہتا ہے کہ کوئی بھی بات چیت ایسی نہ ہو جس میں صرف طاقت کا توازن فیصلہ کن بن جائے، بلکہ لبنان کے مفادات اور سرحدی خودمختاری کو بھی واضح تحفظ حاصل ہو۔
ادھر اسرائیل نے ابھی تک فرانس کو مرکزی ثالث کے طور پر قبول کرنے کے آثار نہیں دیے۔ بعض رپورٹس کے مطابق موجودہ رابطہ کاری میں اسرائیل زیادہ تر امریکی کردار کو ترجیح دے رہا ہے، جس کی وجہ سے فرانس کا حصہ فی الحال معاونت تک محدود دکھائی دیتا ہے، براہِ راست ثالثی تک نہیں۔
اس سارے منظرنامے میں ایک بات واضح ہے: سفارتی دروازہ پوری طرح بند نہیں، مگر خطرہ بھی ٹلا نہیں۔ میکرون کی پیشکش دراصل لبنان کو ایک ایسے مرحلے کے لیے تیار کرنے کی کوشش ہے جہاں معمولی پیش رفت بھی بڑی اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ سفارتی کوششیں ایک پائیدار فریم ورک میں ڈھلتی ہیں یا پھر سرحدی کشیدگی دوبارہ پورے عمل کو پیچھے دھکیل دیتی ہے۔
