MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
international

امریکا کی مدد کرنے والے افغانوں کو کانگو بھیجنے کی رپورٹ، نئی تشویش پیدا

Last updated: اپریل 22, 2026 2:51 صبح
Mabruka Khan
Share
امریکا کی مدد کرنے والے افغانوں کو کانگو بھیجنے کی رپورٹ، نئی تشویش پیدا
امریکا کی مدد کرنے والے افغانوں کو کانگو بھیجنے کی رپورٹ، نئی تشویش پیدا
SHARE

 

واشنگٹن: ایک نئی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اُن افغانوں کے لیے جمہوریہ کانگو کا آپشن زیرِ غور لا رہی ہے جنہوں نے ماضی میں امریکی افواج یا امریکی مشنز کی مدد کی تھی، مگر اب وہ محفوظ منتقلی کے عمل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ خبر اس لیے خاصی حساس سمجھی جا رہی ہے کیونکہ کانگو پہلے ہی امریکا کے ساتھ ایک عارضی انتظام کے تحت بعض تیسرے ملک کے deportees کو کیس بہ کیس بنیاد پر لینے پر آمادہ ہو چکا ہے۔

اس معاملے کا سب سے نازک پہلو یہ ہے کہ بات عام غیر قانونی مہاجرین کی نہیں، بلکہ ایسے افغانوں کی ہو رہی ہے جو امریکی فوج، سفارتی مشنز یا اتحادی ڈھانچے کے ساتھ کام کرنے کے باعث طالبان اور دوسرے شدت پسند گروہوں کے ممکنہ انتقام کے خطرے میں رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق قطر میں ایک سابق امریکی اڈے پر 1,100 سے زیادہ افغان ایک سال سے زیادہ عرصے سے پھنسے ہوئے ہیں، کیونکہ امریکا منتقلی اور پناہ کے عمل کو سست یا منجمد کر چکا ہے۔

کانگو کا نام سامنے آنا اسی لیے چونکا دینے والا ہے۔ اے پی کے مطابق حالیہ دنوں میں تقریباً 15 لاطینی امریکی deportees امریکا سے کانگو پہنچے، اور کانگو کی حکومت نے کہا کہ یہ انتظام عارضی ہے، ہر فرد کا کیس الگ دیکھا جائے گا، جبکہ انسانی بنیادوں پر مدد کے لیے بین الاقوامی ادارے بھی شامل ہیں۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے ملک میں لوگوں کو بھیجنا جو خود سکیورٹی، انسانی بحران اور عدم استحکام کے مسائل سے دوچار ہو، شدید سوالات کھڑے کرتا ہے۔

ابھی تک دستیاب معلومات سے یہی لگتا ہے کہ یہ کوئی مکمل اور حتمی پروگرام نہیں بلکہ پالیسی سطح پر زیرِ بحث ایک ممکنہ راستہ ہے۔ مگر صرف یہ بات کہ کانگو جیسے تیسرے ملک کا آپشن سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے، اس بات کی علامت ہے کہ افغان اتحادیوں کے لیے امریکی resettlement نظام بری طرح دباؤ میں ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی آیا ہے کہ خلیجی اور مسلم اکثریتی ملکوں میں ان افغانوں کی منتقلی کی ابتدائی کوششیں خاطر خواہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔

اس خبر کے سیاسی اور اخلاقی مضمرات بھی گہرے ہیں۔ افغانستان جنگ کے دوران امریکی فوجیوں، مترجموں اور مقامی معاونین کے درمیان ایک غیر تحریری وعدہ موجود تھا کہ جو افغان امریکا کے ساتھ کھڑے ہوں گے، انہیں اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔ اسی لیے veteran گروپس اور افغان حامی تنظیمیں پہلے ہی خبردار کر رہی ہیں کہ اگر ان لوگوں کو امریکا لانے کے بجائے کسی تیسرے ملک، خاص طور پر کانگو، بھیجنے کی کوشش ہوئی تو اسے وعدہ خلافی کے طور پر دیکھا جائے گا۔

فی الحال اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ صرف اندرونی مشاورت ہے یا واقعی کوئی باضابطہ منتقلی منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ لیکن ایک بات صاف دکھائی دیتی ہے: کابل کے سقوط کے برسوں بعد بھی وہ افغان، جنہوں نے امریکی افواج پر بھروسا کیا تھا، اب تک غیر یقینی کے عالم میں ہیں، اور انہیں اب یہ فکر لاحق ہے کہ امریکا انہیں پناہ دے گا، انتظار میں رکھے گا، یا کسی اور ملک بھیج دے گا۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article ٹرمپ نے ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا، کہا فیصلہ منیر اور شہباز شریف کی درخواست پر کیا گیا ٹرمپ نے ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا، کہا فیصلہ منیر اور شہباز شریف کی درخواست پر کیا گیا
Next Article **میکرون کا لبنان کو اسرائیل سے مذاکرات کی تیاری میں مدد دینے کا اعلان** پیرس — فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے کہا ہے کہ فرانس لبنان کو اسرائیل کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی تیاری میں مدد دے گا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحدی کشیدگی کے بعد جنگ بندی نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور سفارتی کوششیں اسے ٹوٹنے سے بچانے کی طرف مرکوز ہیں۔ یہ بات میکرون نے 21 اپریل 2026 کو پیرس میں لبنانی وزیراعظم نواف سلام سے ملاقات کے بعد کہی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ جنگ بندی کو مضبوط کرنے اور جنوبی لبنان کی صورت حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔ میکرون کا مؤقف یہ تھا کہ لبنان میں استحکام صرف فوجی دباؤ سے نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی پیش رفت سے ممکن ہے۔ دوسری طرف نواف سلام نے واضح کیا کہ بیروت بات چیت کے راستے کا مخالف نہیں، تاہم لبنان کی خودمختاری، اسرائیلی افواج کے انخلا اور جنگ بندی کی مکمل پاسداری بنیادی شرطیں رہیں گی۔ یوں ابتدا ہی سے یہ واضح ہے کہ مذاکرات کی راہ کھلی تو ہے، مگر آسان نہیں۔ اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں براہِ راست بات چیت ہوئی تھی، جسے کئی دہائیوں بعد ایک غیرمعمولی سفارتی قدم قرار دیا گیا۔ اگرچہ ان مذاکرات سے کسی فوری پیش رفت کا اعلان نہیں ہوا، لیکن دونوں فریقوں کا ایک ہی میز پر آنا خود ایک اہم تبدیلی سمجھا جا رہا ہے۔ فرانس اس نئے سفارتی خلا میں اپنے لیے ایک کردار تلاش کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پیرس اس وقت باضابطہ مذاکراتی فریق نہیں، لیکن میکرون نے لبنان کو تکنیکی اور سفارتی سطح پر تیار کرنے کی پیشکش کی ہے۔ فرانس کے لبنان کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں، اور اسی بنیاد پر وہ خود کو ایک مددگار قوت کے طور پر پیش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب علاقائی طاقتیں اور مغربی ممالک جنوبی لبنان کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم زمینی حقیقت اب بھی پریشان کن ہے۔ جنگ بندی کو مستحکم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حالیہ مہینوں میں سرحدی جھڑپوں، راکٹ حملوں اور جوابی کارروائیوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ کسی بھی وقت حالات دوبارہ بگڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے موجودہ سفارتی رابطوں کو امن معاہدے کی کوشش کے بجائے فوری کشیدگی کم کرنے کی مہم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ فرانس کے لیے یہ معاملہ صرف سفارت کاری تک محدود نہیں رہا۔ جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن سے وابستہ ایک فرانسیسی اہلکار کی حالیہ ہلاکت نے پیرس کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ فرانس اور اقوام متحدہ کے مشن نے اس واقعے کی ذمہ داری حزب اللہ پر عائد کی، اگرچہ حزب اللہ نے اس الزام کو مسترد کیا۔ اس پس منظر میں میکرون نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو فرانس مستقبل کے کسی امن انتظام میں مدد دینے پر غور کر سکتا ہے۔ لبنانی وزیراعظم نواف سلام کے دورۂ پیرس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ لبنان کو ممکنہ مذاکرات سے پہلے زیادہ مضبوط سیاسی اور سفارتی حمایت حاصل ہو۔ بیروت چاہتا ہے کہ کوئی بھی بات چیت ایسی نہ ہو جس میں صرف طاقت کا توازن فیصلہ کن بن جائے، بلکہ لبنان کے مفادات اور سرحدی خودمختاری کو بھی واضح تحفظ حاصل ہو۔ ادھر اسرائیل نے ابھی تک فرانس کو مرکزی ثالث کے طور پر قبول کرنے کے آثار نہیں دیے۔ بعض رپورٹس کے مطابق موجودہ رابطہ کاری میں اسرائیل زیادہ تر امریکی کردار کو ترجیح دے رہا ہے، جس کی وجہ سے فرانس کا حصہ فی الحال معاونت تک محدود دکھائی دیتا ہے، براہِ راست ثالثی تک نہیں۔ اس سارے منظرنامے میں ایک بات واضح ہے: سفارتی دروازہ پوری طرح بند نہیں، مگر خطرہ بھی ٹلا نہیں۔ میکرون کی پیشکش دراصل لبنان کو ایک ایسے مرحلے کے لیے تیار کرنے کی کوشش ہے جہاں معمولی پیش رفت بھی بڑی اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ سفارتی کوششیں ایک پائیدار فریم ورک میں ڈھلتی ہیں یا پھر سرحدی کشیدگی دوبارہ پورے عمل کو پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ میں اسے چاہیں تو اب **اخباری انداز میں مزید polished اردو ورژن**، **مختصر ویب اسٹوری فارمیٹ**، یا **ہیڈ لائن + سب ہیڈ + لیڈ** کی شکل میں بھی دے سکتا ہوں۔ میکرون کا لبنان کو اسرائیل سے مذاکرات کی تیاری میں مدد دینے کا اعلان
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
بیلجیئم: پرانی بریوری کی کھدائی کے دوران ایک کروڑ ڈالر کا سونا برآمد
بیلجیئم: پرانی بریوری کی کھدائی کے دوران ایک کروڑ ڈالر کا سونا برآمد
بریکنگ نیوز
اگست 16, 2026
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن: ایل اے 17 پر چوہدری یاسین راٹھور کی کامیابی برقرار
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن: ایل اے 17 پر چوہدری یاسین راٹھور کی کامیابی برقرار
تازہ ترین سیاست
اگست 16, 2026
اینتھروپک کے ممکنہ آئی پی او کے لیے 200 ارب ڈالر کی آمدنی کا ہدف
اینتھروپک کے ممکنہ آئی پی او کے لیے 200 ارب ڈالر کی آمدنی کا ہدف
Technology تازہ ترین
اگست 16, 2026
کارتک آریان کو صدر دروپدی مرمو کی یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کی دعوت
کارتک آریان کو صدر دروپدی مرمو کی یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کی دعوت
انٹرٹینمنٹ تازہ ترین
اگست 16, 2026
پون ملہوترا کی یامی گوتم، کارتک آریان اور سنجے مشرا کی اداکاری کی تعریف
پون ملہوترا کی یامی گوتم، کارتک آریان اور سنجے مشرا کی اداکاری کی تعریف
انٹرٹینمنٹ تازہ ترین
اگست 16, 2026
سری لیلا نے کارتک آریان کی انوراگ باسو کی رومانٹک میوزیکل فلم کی شوٹنگ دوبارہ شروع کردی
سری لیلا نے کارتک آریان کی انوراگ باسو کی رومانٹک میوزیکل فلم کی شوٹنگ دوبارہ شروع کردی
انٹرٹینمنٹ تازہ ترین
اگست 16, 2026

You Might Also Like

internationalIran

صدر پزشکیان کے استعفے کی خبریں بے بنیاد: تہران کا سخت تردیدی بیان

By Syed Jarri Abbas
سری لنکا میں مشتبہ آن لائن فراڈ مرکز پر چھاپہ، 37 چینی شہری گرفتار
international

سری لنکا میں مشتبہ آن لائن فراڈ مرکز پر چھاپہ، 37 چینی شہری گرفتار

By Yamna Shahid
ہفتوں سے جاری طلبہ احتجاج کے بعد بھارت نے امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے ٹاسک فورس قائم کر دی
international

ہفتوں سے جاری طلبہ احتجاج کے بعد بھارت نے امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے ٹاسک فورس قائم کر دی

By Mabruka Khan
informationinternational

سلطنتِ عمان میں عید الاضحیٰ کی چار روزہ تعطیلات کا اعلان

By Ayan Ahmed
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?