امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کی جا رہی ہے جب تک تہران کی قیادت ایک متفقہ تجویز پیش نہیں کر دیتی۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر کیا گیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران پر حملہ روکے رکھے گا تاکہ ایرانی قیادت اور اس کے نمائندے ایک متحدہ مذاکراتی مؤقف سامنے لا سکیں۔
یہ بیان غیر معمولی اس لیے بھی سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ٹرمپ نے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت، دونوں کا نام لے کر ذکر کیا۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی موجودہ کوششوں میں پاکستان اب محض پس منظر کا کردار نہیں بلکہ ایک سرگرم ثالث کے طور پر سامنے آ چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اصل جنگ بندی بدھ کو ختم ہونا تھی، مگر پاکستان کی سفارتی کوششوں کے باعث اسے مزید وقت دے دیا گیا۔
تاہم یہ پیش رفت کسی حتمی امن معاہدے کی علامت نہیں۔ تازہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ اسلام آباد میں ممکنہ نئے مذاکرات اب بھی غیر یقینی کا شکار ہیں، کیونکہ ایران نے اب تک واضح طور پر اس اگلے مرحلے میں شرکت کی تصدیق نہیں کی۔ سی بی ایس نے رپورٹ کیا کہ امریکی وفد کی روانگی اور مذاکراتی عمل دونوں تہران کے ردِعمل پر منحصر دکھائی دیتے ہیں۔
عملاً دیکھا جائے تو ٹرمپ کا یہ اعلان جنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک محدود مہلت ہے۔ اس سے لڑائی وقتی طور پر رکی رہ سکتی ہے، مگر ساتھ ہی واشنگٹن نے واضح کر دیا ہے کہ اب اگلا قدم ایران کو اٹھانا ہوگا۔ واشنگٹن ایک بکھرے ہوئے جواب کے بجائے تہران سے ایک واضح، مشترکہ اور قابلِ عمل تجویز چاہتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ لمحہ سفارتی لحاظ سے اہم ہے۔ عالمی میڈیا کی کوریج میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان نے جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور دوبارہ مذاکرات کی راہ کھولنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ یہ اسلام آباد کے لیے ایک بڑی سفارتی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطہ شدید غیر یقینی اور فوجی دباؤ کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔
اس کے باوجود صورتحال اب بھی نازک ہے۔ اے پی اور دیگر رپورٹوں کے مطابق امریکا نے جنگ بندی میں توسیع تو کی ہے، لیکن ایران پر بحری دباؤ اور عسکری تیاری برقرار رکھی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مذاکراتی پیش رفت نہ ہوئی تو یہ مہلت بہت جلد ایک نئی کشیدگی میں بھی بدل سکتی ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا ایران واقعی ایک مشترکہ تجویز دے گا یا نہیں۔ اسی جواب پر طے ہوگا کہ یہ جنگ بندی سنجیدہ مذاکرات کی طرف بڑھتی ہے یا صرف ایک عارضی وقفہ ثابت ہوتی ہے۔
